BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف کے مواخذے کا اعلان

اتحادی جماعتوں کے رہنماء
برسراقتدار اتحار کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان مذاکرات بدھ کو رات گئے تک جاری رہے

پاکستان کے چار جماعتی حکومتی اتحاد نے آئینی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف کا مواخذہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

یہ اعلان جمعرات کی شام گئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی صدر کے مواخذے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مجموعی اراکین کی تعداد چار سو بیالیس ہے جن میں قومی اسمبلی کے 342 اور سینیٹ کے سو ارکان شامل ہیں اور صدر کے مواخذے کے لیے حکمران اتحاد کو ان میں سے کم از کم دو سو پچانوے ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔

مواخذے کے اعلان کے موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر حاجی عدیل، جمیعت علماء اسلام (ف) کے رحمت اللہ کاکڑ بھی موجود رہے اور انہوں نے بھی اس کی تائید کی۔

تین روز کی مشاورت کے بعد زرداری ہاؤس میں پرہجوم نیوز بریفنگ میں پہلے سے تیار کردہ مشترکہ اعلامیہ آصف علی زرداری نے پڑھتے ہوئے کہا کہ صدر پرویز مشرف کے محاسبے کے بعد تمام برطرف کردہ ججوں کو اعلانِ مری کے مطابق بحال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس صدارتی انتخابات کے لیے جب پرویز مشرف کی اہلیت کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیا گیا تھا تو انہوں نے اپنے وکیل کی معرفت عدالت میں وعدہ کیا تھا کہ وہ نئے انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ تاحال انہوں نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا اور پارلیمان سے خطاب کا آئینی تقاضا بھی انہوں نے پورا نہیں کیا۔ ان کے بقول اس لیے حکومتی اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ چاروں صوبائی اور بعد میں قومی اسمبلی سے قراردادیں منظور کرائی جائیں جس میں ان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ اگر انہوں نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا اور مستعفیٰ نہیں ہوئے تو حکومت صدر پرویز مشرف کے خلاف باضابطہ چارج شیٹ پیش کرکے ان کے مواخذے کے لیے پارلیمان میں تحریک پیش کرے گی۔

آصف علی زرداری نے صدر پرویز مشرف کا نام لیے بغیر ان پر الزام عائد کیا کہ جمہوریت کے خلاف سازشوں، گندم اور بجلی سمیت دیگر بحرانوں میں وہی شخص ملوث ہے۔

آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف سے درخواست کی کہ اب وہ اپنے مستعفی ہونے والے وزراء کو کابینہ میں شامل کریں۔ اس بارے میں جب نواز شریف سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں مشاورت کے بعد جمعہ تک کوئی فیصلہ کریں گے۔

 قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مجموعی اراکین کی تعداد چار سو بیالیس ہے جن میں قومی اسمبلی کے 342 اور سینیٹ کے سو ارکان شامل ہیں اور صدر کے مواخذے کے لیے حکمران اتحاد کو ان میں سے کم از کم تین سو بتیس ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں خدشہ نہیں کہ صدر پرویز مشرف آئین کی شق اٹھاون ٹو بی کا استعمال کرتے ہوئے اسمبلی توڑ دیں اور حکومت کو گھر بھجوادیں تو میاں نواز شریف نے کہا کہ اب اسی اور نوے کی دہائی کا زمانہ نہیں کہ ایسا ہو سکے۔

اُسی سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے بھی ملتی جلتی بات کی اور کہا کہ اس وقت جمہوریت کمزور ہے اور نہ اتحادی حکومت اتنی کمزور ہے کہ اٹھاون ٹو بی کا استعمال ہوسکے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں امید ہے کہ موجودہ پارلیمان میں نوے فیصد اراکین صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی حمایت میں ووٹ ڈالیں گے۔

نیوز بریفنگ میں جب میاں نواز شریف سے پوچھا گیا کہ ان کا ججز کے معاملے پر اب کیا موقف ہے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے‘۔تاہم انہوں نے وضاحت کی زرداری صاحب نے اعلان کیا ہے کہ پرویز مشرف کے مواخذے کے بعد تمام ججوں کو بحال کیا جائے گا۔

صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کے سوال پر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ فیصلہ پارلیمان نے کرنا ہے اس لیے وہ اس پر فی الوقت کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

مخدوم امین فہیم کے صدر پرویز مشرف کے حق میں بیانات کے بارے میں ایک سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ وہ بزرگ ہیں اور بزرگوں کی دعائیں لیتے رہتے ہیں۔

صدر کے عہدے سے پرویز مشرف کو ہٹائے جانے بعد نئے صدر کے سوال پر میاں نواز شریف نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ مواخذے کے بعد اتحادی جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں ہوگا۔ اس سوال کی وضاحت میں آصف علی زرداری نے کہا کہ ’ہم تمام جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور ایسا امیدوار لائیں گے جس پر پورے ملک میں اتفاق رائے ہوگا۔‘

امریکی حکام نے صدر مشرف کے مواخذے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے جبکہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مواخذے کے اعلان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما مخدوم امین فہیم کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت کسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا جبکہ اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے محتاط انداز میں اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اعلامیہ ایک اور اعلانِ مری ثابت ہو سکتا ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم الطاف حسین کی جانب سے لندن سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کو اس وقت صدر مشرف کے مواخذے سے زیادہ بڑے مسائل کا سامنا ہے۔

مواخذے کا عمل

1۔صدر کے مواخذے کا عمل شروع کرنے کے لیے سینیٹ یا قومی اسمبلی میں پچاس فیصد اکثریت درکار ہے۔

2۔صدر کے پاس مواخذے کا نوٹس وصول ہونے کے بعد جواب دینے کے لیے تین دن کی مہلت ہوتی ہے۔

3۔صدر پر عائد الزامات کی تحقیق کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس سات سے چودہ دن کے اندر بلایا جاتا ہے۔

4۔ اگر مواخذے کی قرارداد پیش کی جاتی ہے تو اسے منظور کرنے کے لیے مشترکہ ایوان میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔

 قومی اسمبلیدو تہائی اکثریت
مواخذہ: ایوان میں کس کے پاس کتنی سیٹیں
امین فہیمسیاسی ردِ عمل
’مواخذے کی بات آ بیل مجھے مار والی بات ہے‘
نواز شریف اور آصف علی زرداریمواخذہ کارروائی
حکمران اتحاد: پریس کانفرنس کی جھلکیاں
زداری ہاؤسبیرونی منظر
سیاسی مذاکرات کے دوران باہر کیا ہوتا رہا؟
آگےدیوارپیچھےگڑھا
آئی ایس آئی اور گیلانی حکومت کی مشکل
نقصان زیادہ، فائدہ کم
وزیر اعظم گیلانی کے امریکی دورے کا کیا بنا؟
. . . اور کتنی دور ہے
پاکستان، حکمراں اتحاد کے رہنماؤں کا اجلاس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد