BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ججز بحالی، اعلانِ مری سے بھی پیچھے‘

حامد خان
اعلامیہ میں وقت کا تعین نہیں کیا گیا ہے:حامد خان
وکلا رہنماؤں نے حکمران اتحادی جماعتوں کی طرف سے صدر کے مواخذے کے اعلان پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے مواخذے سے پہلے معزول ججوں کو بحال کیا جانا چاہیے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے رکن اور وکلاء تحریک کے سرکردہ رہنما حامد خان کا کہنا ہے کہ انہیں حکمران اتحادی جماعتوں کے اعلان سے مایوسی ہوئی ہے۔ ان کے بقول اتحادی جماعتوں کے اعلامیہ میں ججوں کی بحالی کےمعاملے کی ترجیح کو کم کر کے دوسرے نمبر پر لے آئے ہیں حالانکہ پہلے ججوں کو بحال کیا جانا چاہیے تھا اس کے بعد صدر کا مواخذہ کیا جاتا۔

حامد خان نے نشاندہی کی کہ اعلامیہ میں وقت کا تعین نہیں کیا گیا کہ یہ موخذاہ کب ہوگا اور اس میں کتنا وقت لگے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اعلامیہ کے بعد ججوں کی بحالی کا معاملہ صدر کے مواخذے سے مشروط ہوگیا ہے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ یہ اعلامیہ بھی ایک تاخیری حربہ ہو تاہم وکلاء کا پندرہ اگست کو اہم اجلاس ہورہا ہے جس میں چودہ اگست تک جج بحال نہ ہونے کی صورت میں آئندہ کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

حامد خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس اعلامیہ سے وکلاء تحریک پر کوئی فرق نہیں پڑےگا بلکہ وکلاء تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک معزول جج بحال نہیں ہوتے۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر جسٹس (ریٹائرڈ) رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ اس اعلامیہ کے بعد ججوں کی بحالی کا معاملہ اعلان مری سے بھی پیچھے چلا گیا ہے۔ ان کے بقول اعلان مری میں یہ کہا گیا کہ معزول ججوں کو تیس دنوں میں اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے بحال کیا جائے گا لیکن اب جو اعلامیہ سامنے آیا ہے اس میں کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا بلکہ ججوں کی بحالی کو صدر کے مواخذے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ججوں کی بحالی کو اولین ترجیح دینی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور ججوں کی بحالی کے تحریک چلانے والے وکلاء اور سوسائٹی کے ارکان کو’لولی پوپ‘ دیا گیا ہے۔

 اعلان مری میں یہ کہا گیا کہ معزول ججوں کو تیس دنوں میں اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے بحال کیا جائے گا لیکن اب جو اعلامیہ سامنے آیا ہے اس میں کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا بلکہ ججوں کی بحالی کو صدر کے مواخذے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

پاکستان بار کونسل کے رکن علی احمد کرد کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف کا مواخذہ یعنی’گو مشرف گو‘ اور ججوں کی بحالی یہ دونوں ہی وکلا کے مطالبات ہیں تاہم ہمیں ان کی ترتیب پر اختلاف ہے کیونکہ پہلے ججوں کو بحال کیا جاتا اور پھر صدر مشرف کا مواخذہ ہوتا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امین جاوید کا کہنا ہے حکمران اتحاد نے جو اعلامیہ جاری کیا ہے اس سے ججوں کی بحالی کا معاملہ سردخانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے جس طرح پہلے ججوں کی بحالی کا وعدہ کرکے اس وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا اس طرح اب ایک مرتبہ پھر عوام کو دھوکا دیا گیا ہے۔انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حکمران اتحاد کی طرف سے صدر کے مواخذے سے قبل صدر خود حکمران اتحاد کا مواخذہ کر دیں گے۔

نواز شریف اور آصف علی زرداریاتحاد کے فیصلے
مواخذے کے مشترکہ اعلامیے کا متن
 قومی اسمبلیدو تہائی اکثریت
مواخذہ: ایوان میں کس کے پاس کتنی سیٹیں
پرویز مشرف(فائل فوٹو)برخاستگی کی تاریخ
جناح کے علاوہ سب غیر معمولی حالات میں گئے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد