اتحاد ٹوٹا تو صدر کی نوکری پکی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کا صدر پرویز مشرف کی حمایت میں دیا جانے والا بیان پاکستان کے موجودہ سیاسی گھُٹن والے ماحول میں صدر کے لیے بظاہر تازہ ہوا کا جھونکا لگتا ہے۔ صدر پرویز مشرف یا ان کی دست راست مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ نے اس بیان کا خیر مقدم تو نہیں کیا لیکن یقیناً انہیں خوشی ضرور ہوگی۔ نائب امریکی وزیر نے صدر پرویز مشرف سمیت مختلف حکام سے ملاقاتوں کے بعد تین روز قبل نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ ’پرویز مشرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ توانائی اور خوارک کی قلت اصل مسائل ہیں اور سب کو ان پر توجہ دینی چاہیے۔‘ امریکی نائب وزیر کے اس بیان پر حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے تو تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن حکومتی اتحاد کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے اس پر کھل کر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ میاں نواز شریف نے گزشتہ روز اس بارے میں کہا کہ ’پرویز مشرف پاکستان کے غیر آئینی صدر ہیں اور ان کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔‘ میاں نواز شریف نے مزید کہا کہ ’یہ کوئی بیرونی معاملہ ہے اور نہ ہی انہیں اس بارے میں کسی بیرونی مشورے کی ضرورت ہے۔‘
حکمران پیپلز پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما کا دعویٰ ہے کہ اگر میاں نواز شریف گزشتہ ماہ صدر پرویز مشرف کے احتساب اور ان پر بغاوت کا مقدمہ چلانے کے بارے میں دھواں دار بیان بازی نہ کرتے اور ذرائع ابلاغ میں صدر مشرف کے اڑتالیس گھنٹے میں ملک چھوڑنے اور خصوصی طیارہ اسلام آباد پہنچنے جیسی مضحکہ خیز خبریں شائع نہ ہوتیں تو شاید اب تک صدر مشرف خاموشی سے مستعفی ہوچکے ہوتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک جہاں فوج باالواسطہ یا بلا واسطہ اقتدار میں شریک رہے اور ملک کے خارجی اور داخلی امور میں سرکردہ کردار کی حامل ہو وہاں کسی بھی ریٹائرڈ فوجی سربراہ کا آئین توڑنے جیسے سنگین جرم میں بھی ٹرائل کرنا بظاہر ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ مبصرین کی رائے میں صدر پرویز مشرف کے کردار کے بارے میں دونوں بڑی حکومتی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے مطابق اقتدار سے ہٹانے، قید رکھنے، جلاوطن کرنے اور نظریہ ضرورت کے تحت مسلم لیگ (ق) کی تخلیق ایسے عوامل ہیں جو مسلم لیگ (ن) کے لیے شدید تکلیف دہ ہیں اور یقیناً ان کی ترجیح ہوگی کہ پرویز مشرف فوری طور پر مستعفی ہوں یا ان کا احتساب ہو اور انہیں رسوا کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کی ایسی خواہش کا اندازہ ان کے صدر پرویز مشرف کے بارے میں برملا ظاہر کردہ خیالات سے بھی ہوتا ہے کیونکہ صدر پرویز مشرف کے اپنے عہدے پر برقرار رہنا مسلم لیگ (ق) کے متحد رہنے کی ضمانت ہے، جوکہ مسلم لیگ (ن) کے سر پر لٹکتی ہوئی دو دھاری تلوار کے مانند ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی امریکہ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات جیسے غیر اعلانیہ ثالثوں کے ذریعے صدر پرویز مشرف کے ساتھ ہونے والے ’معاہدہِ قومی مصلحت‘ کی خود کو پابند سمجھتے ہوئے فوری طور پر انہیں صدر کے عہدے سے ہٹانے کی کوئی ناکام کوشش کرنے کی خواہاں نہیں۔ صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں برطرف کردہ ججوں کی بحالی کا معاملہ ہو یا صدر مشرف کو ہٹانے کا، گورنر پنجاب کی تعیناتی ہو یا کوئی اور معاملہ، بیشتر ایشوز پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے موقف میں واضح تضاد ہے۔ اور تو اور میاں نواز شریف کے بقول پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کسی معاملے میں مشاورت تک نہیں کرتی۔ ایسے میں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) وزارتیں چھوڑنے میں تو کوئی دیر نہیں لگائی لیکن حکومتی اتحاد سے علیحدگی میں تاخیر کر رہی ہے؟ میاں نواز شریف کے مطابق اس کی وجہ ان کی جماعت کا وہ عزم ہے جس کے تحت عوامی خواہشات کے مطابق وہ آمریت کے خاتمے کے لیے خلوص کے ساتھ پیپلز پارٹی کا ساتھ دینا اور جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن بعض تجزیہ کار مسلم لیگ (ن) کے حکومتی اتحاد سے سیاسی علیحدگی میں تاخیر کی بڑی وجہ ایسا ہونے کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کے لیے پیدا ہونے والی سیاسی مشکلات کو سمجھتے ہیں۔ ان کی نظر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کو نہ چاہتے ہوئے بھی ’قومی مفاد‘ میں قریب ہونے پر مجبور کردے گی اور اس سے صدر پرویز مشرف کی نوکری بھی پکی ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں آگے چل کر پیپلز پارٹی کو تو خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا لیکن سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ (ن) کا ہوگا، کیونکہ ان کے ’بیس کیمپ پنجاب میں مسلم لیگ (ق) پیپلز پارٹی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگی۔ ‘ | اسی بارے میں گیلانی اور رچرڈ باؤچر کی ملاقات30 June, 2008 | پاکستان باؤچر کی نواز شریف سے ملاقات01 July, 2008 | پاکستان مہمند ایجنسی حملہ: گیٹس کا اظہارِ افسوس02 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||