’تین سو پندرہ کی حمایت کا دعوٰی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اِس وقت الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق تو حکمران اتحاد کو چار سو بیالیس میں سے تین سو اراکین کی حمایت حاصل ہے جبکہ حکومتی اتحاد کا دعویٰ ہے کہ انہیں صدر کے مواخذے کے لیے کم از کم تین سو پندرہ ووٹ ملیں گے۔ الیکشن کمیشن کی تازہ مرتب کردہ فہرست کے مطابق قومی اسمبلی کی کل تین سو بیالیس نشستوں میں سے دو پر انتخاب ابھی باقی ہے۔ اُن میں حلقہ NA 42 پر وزیرستان میں امن عامہ کی وجہ سے انتخاب نہیں ہوسکا اور دوسرا حلقہ NA 123 لاہور کا ہے جو مسلم لیگ (ن) کے جاوید ہاشمی نے خالی کیا اور وہاں سے میاں نواز شریف نے کاغذات نامزدگی داخل کیے اور تاحال معاملہ عدالت میں ہے۔ قومی اسمبلی کے موجودہ کل اراکین کی تعداد تین سو چالیس میں سے پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد ایک سو چوبیس ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی سیکرٹری اظہار امروہوی کا دعویٰ ہے ان کے اراکین کی تعداد ایک سو پچیس ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد اکانوے، متحدہ مجلس عمل کی سات، عوامی نشنل پارٹی کے تیرہ اور اٹھارہ آزاد اراکین ہیں۔ جن کے بارے میں اظہار امروہوی کا کہنا ہے یہ سب حکومت کے حامی ہیں اور ان کی قومی اسمبلی میں کل تعداد دو سو تریپن بنتی ہے۔ ویسے تو متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے پچیس اراکین بھی حکومت کے حامی ہیں لیکن ان کی تعداد دو سو ترپّن کے علاوہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے اراکین کی تعداد 54 بتائی گئی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو منظور وٹو بھی ان میں شامل ہیں کیونکہ وہ مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اور بعد میں حکومت کی حمایت کردی اور اس وقت وزیراعظم کے مشیر ہیں۔ اگر انہیں پیپلز پارٹی کے ساتھ گنا جائے تو پھر اظہار امروہی کا ایک سو پچیس اراکین کا دعویٰ ٹھیک لگتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی فہرست کے مطابق مسلم لیگ (فنکشنل) کے پاس پانچ، بی این پی عوامی کے پاس ایک، پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے پاس ایک جبکہ نیشنل پیپلز پارٹی (جتوئی) کے پاس ایک نشست ہے۔ قومی اسمبلی میں اگر یہ مانا جائے کہ مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم، فنکشنل، شیر پاؤ، جتوئی، بلوچستان نیشنل عوامی سب مل بھی جائیں تو ان کی کل تعداد ستاسی بنتی ہے۔ پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں کل اراکین کی تعداد ایک سو ہے۔ جس میں سے اظہار امروہی کا دعویٰ ہے کہ سینتالیس اراکین پیپلز پارٹی کی حکومت کے ساتھ ہیں جبکہ تریپن سنیٹرز مسلم لیگ (ق) اور ان کے ساتھ ہیں جس میں ایم کیو ایم کے چھ سینیٹرز بھی شامل ہیں۔ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے نو سنیٹرز ہیں، مسلم لیگ (ن) کے چار، عوامی نشنل پارٹی کے دو، متحدہ مجلس عمل سترہ، پشتونخواہ عوامی ملی پارٹی کے تین، جمہوری وطن پارٹی ایک اور گیارہ آزاد سنیٹرز شامل ہیں۔ ان میں فاٹا کے آٹھ سینیٹر بھی شامل ہیں۔ جس طرح مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ صدر کے مواخذے کی مخالفت کر رہی ہیں اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو صدر بظاہر حامیوں کی دونوں ایوانوں میں تعداد ایک سو چالیس بنتی ہے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ پارلیمان میں بظاہر صدر مشرف کے حامی نظر آنے والے متعدد اراکین نے خفیہ طور پر انہیں حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ادھر صدارتی کیمپ کا دعویٰ ہے کہ فاٹا سمیت بیشتر آزاد اراکین سے ان کے بھی رابطے ہیں اور وہ صدر کے مواخذے کے لیے شاید ووٹ نہ ڈالیں۔ |
اسی بارے میں صدر مشرف کے مواخذے کا اعلان07 August, 2008 | پاکستان مواخذے کے مشترکہ اعلامیے کا متن07 August, 2008 | پاکستان مواخذے کا’اصولی فیصلہ‘، مسودہ تیار07 August, 2008 | پاکستان صدر کا دفاع کریں گے: پرویز الہی06 August, 2008 | پاکستان مذاکرات ختم، فیصلے کا اعلان آج 06 August, 2008 | پاکستان زرداری، نواز شریف ملاقات ختم05 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||