صدر کا مواخذہ کن وجوہات پر ہو سکتا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ پاکستان میں آج تک کسی بھی صدر مملکت کے خلاف مواخذے کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی تاہم ملک کے آئین کے تحت صدر مملکت کو چار وجوہات کی بنا پر ان کے منصب سے برطرف کیا جا سکتا ہے یا مواخذے کی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ آئین پاکستان کے تحت سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان صدر مملکت کا چناؤ کرتے ہیں جو پانچ برس کے لیے ہوتا ہے۔ تاہم صدر مملکت کو جن وجوہات کی بنا پر عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے ان میں جسمانی یا دماغی نااہلیت اور آئین کی خلاف وزری یا فاش غلط روی کے الزامات شامل ہیں۔ تہتر کے آئین میں صدر مملکت کے موخذاے یا برطرفی کا طریقہ دستور کی شق سینتالیس میں دیا گیا ہے۔ اس شق کے تحت سینیٹ یا قومی اسمبلی میں کسی بھی ایک ایوان کی کل رکنیت کے کم از کم نصف ارکان قومی اسمبلی کے سپیکر یا چیئرمین سینیٹ کو صدر کے خلاف موخذاے کے لیے تحریک پیش کرنے کاتحریری نوٹس دیں گے جس میں نااہلیت کے کوائف یا صدر کےخلاف الزامات کی وضاحت ہو گی۔ پاکستانی پارلیمانی میں صدر مملکت کے خلاف موخذاے کی منظوری کے لیے کم از کم دو سو پچانوے ارکان کی ضرورت ہے۔ اگر سینیٹ کے ارکان صدر مملکت کے خلاف موخذاے کے لیے چیئرمین کو درخواست دیتے ہیں اور تو چیئرمین سینیٹ کو فوری طور پر یہ درخواست سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجنی ہوگی۔ سپیکر قومی اسمبلی کو ارکان اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی طرف سے مواخذے کے حوالے سے جب نوٹس وصول ہو تو وہ آئینی طور پر تین دنوں کے اندر اس نوٹس کی ایک نقل صدر مملکت کو ارسال کرنے کا/کی پابند ہے۔ آئین کے تحت سپیکر قومی اسمبلی نوٹس کی وصولی کے بعد کم از کم 14 دنوں سے پہلے تفتیش کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس طلب کرے گا۔ یہ مشترکہ اجلاس ازخود اس وجہ یا وجوہات کی تفتیش کرسکتا ہے یا کرا سکتا ہے جس نوٹس کی بنیاد پر یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ صدر مملکت کو یہ آئینی حق ہے کہ جب ان کے خلاف مشترکہ اجلاس میں تفیش ہو رہی ہو تو خود اس اجلاس پیش ہو سکتے ہیں یا پھر پھر کسی وکیل کے ذریعے اپنی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ مشترکہ اجلاس کے دوران پارلیمان یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے کم از کم دو تہائی ارکان اس قرار داد کی منظوری دے دیں جس میں کہا گیا کہ صدر مملکت اپنے منصب پر فائز رہنے کے قابل نہیں ہیں تو صدر مملکت کو قرار داد کی منظوری کے فوراً بعد اپنا منصب چھوڑنا ہوگا۔ آئین کے تحت صدر مملکت کے عہدہ خالی کرنے پر چیئرمین سینیٹ کو قائم مقام صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دینے ہونگے اور صدر کا منصب خالی ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ ساٹھ اور کم از کم تیس دنوں میں نئے صدر کا چناؤ کیا جائے گا۔ آئین کی شق چوالیس کے صدر قومی اسمبلی کے سپیکر کے نام اپنی دستخطی تحری کے ذریعے اپنے عہدے سے مستفیْ ہوسکے گا۔ قانونی ماہر اور سابق ایڈووکیٹ جنرل اشتر اوصاف علی نے بی بی سی کو بتایا کہ جس طرح وزیر اعظم یا وزیر اعلیْ کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کی صورت میں وہ اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سفارش نہیں کرسکتا اس طرح جب صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک آئے گی تو وہ بھی آئین کی شق اٹھاون ٹو بی کے تحت اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کو تحلیل نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد کی طرف سے صدر کے موخذاے کے اعلان کے بعد صدر کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ مستعفیْ ہوجائیں۔ ان کے بقول مواخذے کی تحریک کی صورت میں اسمبلی تحلیل کرنے کا اقدام بدنیتی پر مبنی ہو گا۔ ان کی رائے میں مواخذے کی تحریک ناکام ہونے کی صورت میں اسمبلی کے پاس کوئی جواز نہیں ہوگا۔ |
اسی بارے میں صدر مشرف کے مواخذے کا اعلان07 August, 2008 | پاکستان ’اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کریں‘07 August, 2008 | پاکستان ’ججز بحالی، اعلانِ مری سے بھی پیچھے‘07 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||