BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 August, 2008, 08:21 GMT 13:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیب کے خلاف متفقہ قرار داد

ایوان نے ایک تحریک استحقاق بھی منظور کی
پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا، سینیٹ نے جمعہ کو ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے بدعنوانی اور کرپش کے انسداد کے لیے قائم کرردہ ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) کو ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔

یہ قرار داد ایوان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر لطیف کھوسہ نے پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

اس قرار داد پر بحث کرتے ہوئے قائد ایوان میاں رضا ربانی نے کہا کہ نیب کو ختم کرنے کی بات پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ جو سابق حکومت نے ملک سے کرپشن کو پاک کرنے کے لیے بنایا تھا، سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے ذریعے صرف اور صرف سیاسی مخالفین کا احتساب کرنے اور ان ہی کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

سینیٹر لطیف کھوسہ کی طرف سے قرار داد پیش کیئے جانے سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صفدر عباسی نے ایوان میں ایک تحریک استحقاق پیش کی جس میں انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں ایک عدالت کے باہر نیب کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان سے نامباسب رویہ اختیار کیا جس سے ان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔

صفدر عباسی نے کہا کہ ان کے دو رشتہ داروں کو نیب کے اہلکار زبردستی اٹھا کر بھی لے گئے ہیں۔

تحریک استحقاق کو بھی ایوان نے منظور کر کے ایوان کی استحقاق کمیٹی کے حوالے کر دیا۔

اس تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف کامل علی آغا نے کہا کہ اب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے اپنے ارکان کے ساتھ یہ رویہ کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا صفدر عباسی کا شمار ان اراکین میں ہوتا ہے جو موجودہ حکومت کی پالیسوں کے حق میں نہیں ہیں۔

کامل علی آغا نے کہا موجودہ مشیر داخلہ ہی نے ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورے حکومت میں نواز شریف کے محروم والد کو گرفتار کیا تھا۔

اس سے پہلے سینیٹ نے قومی ائر لائن پی آئی اے کی ٹریڈ یونین پر پابندی کے خاتمے کا بل منظور کر لیا یہ بل محنت وافرادی قوت کے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے پیش کیا تھا اس کے علاوہ لاریڈ یونین کی تشکیل کے متعلق قانون کو مربوط اور معقول بنانے اور آجر اور آجیروں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک اور بل سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔

اس سے پہلے ملک میں داخلی سلامتی کی صورتحال اور حکمراں اتحاد کی طرف سے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کرنے کے حوالے سے بحث سمٹتے ہوئے سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک جمہوری طریقے سے لائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد کو ہارس ٹریڈنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد پوری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مواخذے کی تحریک میں اگر ہارس ٹریڈنگ ہوئی تو وہ صدر جنرل ریٹائرڈ کی طرف سے ہوگی۔ رضا ربانی نے الزام عائد کیا کہ صدر ہارس ٹریڈنگ کے موجد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی مصالحتی آرڈنینس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان مسلم لیگ قاف کو ہوا جنہوں نے نہ صرف بینکوں سےقرضے معاف کروائے بلکہ نیب سے اپنے مقدمات بھی واپس لیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی موثر حکمت عملی کی وجہ سے ملک میں خودکش حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بلوچستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ اس ضمن میں سینیٹ کی ایک سات رُکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو سات ہفتوں میں اس حوالے سے رپورٹ پیش کرے گی۔

پاکستان مسلم لیگ قاف کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک انتہائی اہم دور سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر کا مواخذہ یا صدر کی طرف سے اٹھاون دو بی کا استعمال پاکستان کو درپیش مسائل کا حل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر کا مواخذہ پاکستان کی جمہوریت اور سیاست کے لیے بہت بڑا امتحان ہے۔

مشاہد حسین نے کہا ’حکومت کی طرف سے ہارس ٹریڈنگ شروع ہوگئی ہے لہذا ایوان کو جمعہ بازار نہ بنائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایوان پارلیمنٹ کی بولیاں لگنی شروع ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پرویز مشرف کی پالیسیوں کو ہی اپنائے ہوئے ہے۔ مشاہد حسین نے کہا کہ گزشتہ نو سال کے دوران پرویز مشرف پر ایک بھی کرپشن کا الزام نہیں لگ سکا۔

ملک میں امن وامان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اوورہالنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ انٹیلجنس بیورو اور پولیس کی سپیشل برانچ کو دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اسراراللہ زہری نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران نو سو بلوچ لاپتہ ہوئے تھے جبکہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آتے ہی تین سو بلوچوں کو اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچیوں کی نسل کُشی ختم کی جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سنیٹر عبدالخالق نے کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کو کم کرکے عام آدمی کو ریلیف دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حلوے تو سیستدان کھاتے ہیں لیکن مولوی بدنام ہوتے ہیں۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس کو کرائے پر دے دیا جائے اور اس سے جو آمدنی ہوگی اُس کو عام آدمی کی بہتری کے لیے خرچ کیا جائے۔ سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد