حامیوں کا صدر کو بچانے کا عزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے حامیوں نے کہا ہے کہ وہ پارلیمان میں صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ سابق حکمران جماعت پی ایم ایل (ق) نے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ حکومت کی پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کو ناکام بنا سکتی ہے۔ صدر پرویز مشرف اور ان کے ترجمان ذرائع ابلاغ سے بات کرنے سے تو گریزاں ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق جمعہ کو انہوں نے قانونی مشیروں سے اگلے قدم کے لیے رابطے کیے ہیں۔ پاکستان کی حکمران جماعت نے صدر مشرف پر الزام لگایا ہے کہ وہ نااہل ہیں اور جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے اس کے جواب میں اپنا مؤقف نہیں بیان کیا۔ امریکہ نے اسے پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں یہ صدر کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ بات بھی لکھی گئی ہے کہ وہ پارلیمان میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا دفاع کریں گے۔
اگرچہ صدر مشرف نے ابھی تک اس ضمن میں کوئی باقاعدہ بیان نہیں دیا لیکن ان کی حامی جماعت پاکستان مسلم (ق) کے رہنما ایسا نہیں کر رہے۔ مسلم لیگ ق کے جنرل سیکریٹری مشاہد حسین نے ڈان نیوز ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ذاتی طور پر صدر کے پارلیمان کو توڑنے کے اختیار کے خلاف ہوں اور میرے خیال میں یہ اختیار ختم ہونا چاہیے لیکن میں صدر کے مواخذے کے بھی خلاف ہوں۔‘ مسلم لیگ ق کے ہی ایک اور سیاسی رہنما اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ برسرِ اقتدار اتحاد نے یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا ہے اور وہ اپنے ہی جال میں پھنس جائیں گے۔ صدر مشرف کے سابق وزیرِ اطلاعات طارق عظیم کا کہنا ہے کہ ’مواخذے کی تحریک یقیناً تباہی کا نسخہ ہے۔‘ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف کو بتایا کہ ’ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ یہ ایک کچی پکی کوشش ہے۔‘ مسلم لیگ (ق) کے ایک مرکزی رہنما کامل علی آغا نے بی بی سی کو بتایا کہ دس اگست کو لاہور میں ان کی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ان کے مطابق صدر کے مواخذے کو ناکام بنانے کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں صدر مشرف کے مواخذے کا اعلان07 August, 2008 | پاکستان ’اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کریں‘07 August, 2008 | پاکستان مسلم لیگ نون کی کابینہ میں واپسی08 August, 2008 | پاکستان سندھ اسمبلی طلب کرنے کا مطالبہ08 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||