BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 August, 2008, 16:22 GMT 21:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف مواخذے کا سامنا کریں‘

احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ق کے کئی اراکین ان کی حمایت کر رہے ہیں
مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ صدر مشرف استعفٰی دینے کی بجائے مواخذے کا سامنا کریں تاکہ وہ قانون گرفت میں آ سکیں ۔

سنیچر کے روز اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے سیکرٹریٹ میں ہونے والی ایک پریس کانفرس میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے بتایا کہ اب صدر مشرف کے قریبی ساتھی انہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ مواخذے کی جنگ ہار چکے ہیں اور وہ استعفٰی دے دیں ۔

احسن اقبال نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ آئین اور قانون اپنا عمل پورا کریں گے اور ان کی دعا ہے کہ صدر مشرف مستعفی نہ ہوں بلکہ مواخذے کا سامنا کریں تاکہ پاکستان میں یہ مثال قائم ہو سکے کہ ایک ایسا صدر جس نے اپنی کرسی کی خاطر آئین کو توڑا ، پاکستان کے وقار، عزت، معیشت، عدلیہ اور جمہوریت کو نشانہ بنایا تھا اس صدر کو آئین اور قانون نے اپنی گرفت میں لے لیا۔

 صدر کا مواخذہ بھی ہو گا اور معزول ججوں کو دو نومبر دو ہزار سات والی پوزیشن پر بحال بھی کیا جائے گا۔
سیکریٹری جنرل مسلم لیگ احسن اقبال

احسن اقبال نے صدر مشرف کی طرف سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی خبروں کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اب تک کسی صدر نے آرمی کی حمایت کے بغیر اسمبلیاں تحلیل کرنے کے لیے اٹھاون ٹو بی کا استعمال نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت فوجی قیادت فوج کو سیاست سے نکالنے کی پالیسی پر کار بند ہے جس کے نتیجے میں صدر مشرف اب فوج کو دوبارہ اپنی ڈوبتی ہوئی کشتی بچانے کے لیے اپنی سیاست میں نہیں جھونک سکتے ہیں ۔

احسن اقبال نے بتایا کہ ایک بہت بڑی تعداد میں مسلم لیگ قاف کے اراکین اور ماضی میں صدر مشرف کی حمایت کرنے والے اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ مواخذے کی حمایت کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک تین سو پچیس سے زائد اراکین کی حمایت مواخذے کی تحریک کو حاصل ہو چکی ہے ۔

احسن اقبال نے بتایا کہ مواخذے کی تحریک پاکستان کی چھیاسی فیصد عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے اور ایوان میں جو شخص مواخدے کی حمایت نہیں کرے گا تو آئندہ الیکشن میں اس کا انجام وہ ہی ہو گا جو اٹھارہ فروری کے الیکشن میں صدر مشرف کے حامیوں کا ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ صدر مشرف کا مواخدہ پاکستان کے آئین اور جمہوریت کے مطابق ہے اور یہ پارلیمان کا داخلی معاملہ ہے جس میں کوئی سپریم کورٹ ، بالخصوص پی سی او والی سپریم کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو پارلیمان اپنی خود مختاری کا دفاع کرے گی۔ کیونکہ یہ مسئلہ پارلیمان کی بالادستی اور جمہوریت کا ہے ۔ اس لیے پی سی او جج صدر مشرف کے دفاع میں نہیں آ سکتے ہیں ۔ جبکہ جو وکیل دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہم مواخذے کو سپریم کورٹ میں لیے جائیں گے وہ صرف پیسہ بنانے کے چکر میں ہیں۔

احسن اقبال نے بتایا کہ صدر کے مواخذے سے محاذ آرائی کو نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر کا مواخذہ بھی ہو گا اور معزول ججوں کو دو نومبر دو ہزار سات والی پوزیشن پر بحال بھی کیا جائے گا۔

احسن اقبال نے پریس کانفرس میں بتایا کہ ایسا صدر جو نہ کسی صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت کو قابل قبول تھا توایسے صدر کو چاہیے تھا کہ وہ خود ہی استعفی دے دیتے اور ملک کو کسی بحران کی طرف نہ دھکیلتے۔

انہوں نے بتایا کہ صدر مشرف کے مواخذے سے پاکستان دنیا کو یہ ثابت کر سکے گا کہ ہمارے ملک میں قانون کا جھنڈا بلند ہے۔

واضع رہے کہ صدر پرویز مشرف کی حمایتی جماعت مسلم لیگ قاف کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد کی طرف سے مواخذے کے اعلان کے بعد صدر مشرف کے پاس دو ہی راستے ہیں کہ کہ وہ مستعفی ہوجائیں یا مواخذے کی تحریک کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

جبکہ صدر مشرف نے حکومت کی درخواست پر قومی اسمبلی کا اجلاس گیارہ اگست کو طلب کر لیا ہے ۔

اسی بارے میں
اسمبلی اجلاس گیارہ اگست کو
09 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد