’اسمبلی توڑنے کا کوئی جواز نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ(ق) نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے امکانی طور پر اسمبلی توڑنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھاون ٹو بی استعمال کرنے کا کوئی جواز ہے اور نہ اس کی کوئی تائید کرے گا۔ صدر پرویز مشرف کی سب سے بڑی حامی جماعت مسلم لیگ (ق) کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید مشاہد حسین نے سنیچر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر پرویز مشرف کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں کہ وہ مستعفی ہوجائیں یا مواخذے کی تحریک کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ اٹھاون ٹو بی کا کوئی آپشن ہے ہی نہیں۔ میں ذاتی طور پر اس کا مخالف رہا ہوں اور میں نے اس کا اعلان بھی کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس صورتحال میں نہ اس کا کوئی جواز ہے اور نہ کوئی اس کی تائید کرے گا۔ دو آپشن ہیں کہ ڈٹ کر مقابلہ کریں یا پھر ہتھیار پھینک دیں اور استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔ ہم نے مشورہ دیا ہے کہ ڈٹ کر مقابلہ کریں اور مردوں کی طرح مقابلہ کریں‘۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو لگ رہا ہے کہ فوج کی صدر پرویز مشرف کو حمایت حاصل ہے تو سید مشاہد حسین نے کہا کہ فوج اپنا آئینی کردار ادا کر رہی ہے اور آئین کے مطابق سیاست میں فوج کا کوئی کردار نہیں۔ مسلم لیگ (ق) کی سابق وفاقی وزیر اور سنیٹر نیلو فر بختیار نے کہا ہے کہ ان کا سات سینیٹروں پر مشتمل فارورڈ بلاک اب بھی قائم ہے ۔ جس میں ان کے بقول مسلم لیگ (ق) کے پانچ سنیٹر طاہرہ لطیف، ولی محمد بادینی، امجد وڑائچ، ظفر چوہدری، جتوئی گروپ کے آصف جتوئی اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے اسرار اللہ زہری شامل ہیں۔ ان کے مطابق ’ہم مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے اس بیان کی حمایت نہیں کرتے جس میں انہوں نے صدر پرویز مشرف کے دفاع کا اعلان کیا ہے‘۔ نیلوفر بختیار نے کہا کہ وہ اپنے گروپ کی مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کہ صدر مشرف کے خلاف مواخذے میں ووٹ دیں یا نہیں۔
صدر پرویز مشرف کے ساتھ پانچ سال تک ساتھ رہنے اور اہم وزارتیں سنبھالنے والے پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے رہنما آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بی بی سی بات کرتے بتایا کہ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے حق میں ووٹ دینے کے لیے ان سے حکمران اتحاد نے رابطہ کیا ہے لیکن تاحال انہوں نے اس کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ نہیں کیا۔ ’مجھ سے صدر پرویز مشرف نے کوئی رابطہ نہیں کیا بلکہ وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ اور چوہدری نثار علی خان میرے پاس آئے تھے کہ صدر مشرف کے خلاف ووٹ دیں‘۔ آفتاب شیر پاؤ نے بتایا کہ ان کی جماعت نے ابتدائی مشاورت کی اور ایک دو روز میں فیصلہ کرلیں گے کہ انہوں نے صدر مشرف کے مواخذے کی حمایت کرنی ہے یا نہیں۔ ایک سوال کے جواب انہوں نے کہا صدر کا مواخذہ کرنے کے لیے حکمران اتحاد کا پلڑا بظاہر بھاری لگ رہا ہے۔ صدر کے ایک اور قریبی ساتھی اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا کہ صدر نے ان سے کوئی مشاورت نہیں اور ایسے میں وہ بھی انہیں کوئی مشورہ دینا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کے پاس اسمبلی توڑنے، مستعفی ہونے اور مواخذے کا مقابلہ کرنے کے تین آپشن ہیں اور ان میں سے راستہ صدر صاحب نے خود منتخب کرنا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صدر اسمبلی توڑنے کا اختیار اس صورت میں استعمال کرسکتے ہیں جب فوج ان کا ساتھ دے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ صدر نے کیا فیصلہ کرنا ہے، ابھی یہ واضح نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ صورتحال دو تین دن میں واضح ہوگی۔ مسلم لیگ (ق) سمیت اپنے حامی جماعتوں کی رہنماؤں کے بیانات اور ان کی جانب سے کھل کر حمایت نہ کرنے اور فوج کی جانب سے معاملات سے الگ تھلگ رہنے پر صدر پرویز مشرف بظاہر سخت مایوس اور تنہا نظر آتے ہیں۔ایسے میں کئی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف کے پاس مستعفی ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور وہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر وہ کسی بھی وقت مستعفی ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں مواخذہ: حامیوں اور مخالفین کی تیاریاں08 August, 2008 | پاکستان حامیوں کا صدر کو بچانے کا عزم09 August, 2008 | پاکستان مسلم لیگ نون کی کابینہ میں واپسی08 August, 2008 | پاکستان ’تین سو پندرہ کی حمایت کا دعوٰی‘08 August, 2008 | پاکستان نیب کے خلاف متفقہ قرار داد08 August, 2008 | پاکستان سندھ اسمبلی طلب کرنے کا مطالبہ08 August, 2008 | پاکستان اسمبلی اجلاس گیارہ اگست کو09 August, 2008 | پاکستان مواخذہ تحریک، بار کونسل کا خیرمقدم09 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||