مواخذہ تحریک، بار کونسل کا خیرمقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بار کونسل نے حکمراں اتحاد کی جانب صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی تحریک جاری رہے گی۔ سنیچر کو سپریم کورٹ میں بار کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کونسل کے وائس چیئرمین سید الرحمن نے کہا کہ حکمراں اتحاد میں شامل ایک بڑی جماعت کے ایجنڈے میں ججوں کی بحالی کو اولیت حاصل تھی لیکن اب اس کو صدر کو مواخذے کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ آیا صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک کامیاب ہوگی یا نہیں تاہم اس سے جمہوری روایات کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ صدر کا مواخذے کی تحریک اسی ماہ میں ہی پیش کردی جائے گی جس کی بعد معزول ججوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ سید الرحمن نے کہا کہ پاکستان بار کونسل نے کبھی بھی ججوں کی بحالی کے لیے چودہ اگست کی ڈیڈ لائن نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کی بحالی کے لیے احتجاج کی کال دینا صرف پاکستان بار کونسل کا ہی حق ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور دیگر وکلاء رہنماؤں نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے حکومت کو چودہ اگست کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ججوں کی بحالی کے حوالے سے وکلاء کی تحریک ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے اور اس مرحلے پر کوئی بھی ایسا اقدام نہیں اُٹھایا جائے گا جو اس تحریک کے لیے نقصان دہ ہو۔ پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ وکلاء نے ججوں کی بحالی کی تحریک میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ سید الرحمن نے کہا کہ صدر کے مواخذے کے بعد بھی وکلاء کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے اعلی عدالتوں کے ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کا ائندہ اجلاس بائیس اگست کو اسلام آباد میں ہی ہوگا جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان بار کونسل کے اجلاس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کے بیان کے خلاف قرار کو ایک اکثریتی رائے سے منظور کرلیا گیا اس بیان میں سپریم کورٹ بار کے صدر نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے بار کونسل کو پانچ کروڑ روپے کی گرانٹ دے رہی ہے۔ سید الرحمن نے کہا کہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے سنیچر کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کی اور کہا کہ پاکستان بار کونسل کو تیئس اگست تک پانچ کروڑ روپے کی گرانٹ مل جائے گی۔ وکیل رہنما علی احمد کُرد نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اجلاس میں اعتزاز احسن کے خلاف پیش ہونے والی قرارداد کی مخالفت کی۔ انہوں نے اس وقت جو وکلاء کی تحریک چل رہی ہے اُس میں تمام وکلاء برادری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’ججز بحالی، اعلانِ مری سے بھی پیچھے‘07 August, 2008 | پاکستان حامیوں کا صدر کو بچانے کا عزم09 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کے مواخذے کا اعلان07 August, 2008 | پاکستان صدر کی جگہ اب وزیراعظم جائیں گے07 August, 2008 | پاکستان مواخذے کا’اصولی فیصلہ‘، مسودہ تیار07 August, 2008 | پاکستان ’اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کریں‘07 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||