BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 August, 2008, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مواخذہ:مشرف الزامات کی تیاری

احسن اقبال
احسن اقبال نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر مشرف کے خلاف چارج شیٹ کئی سو صفحات پر مشتمل ہو گی
صدر مملکت پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کے لئے استعمال ہونے والے الزامات کی فہرست کی تیاری کے لئے حکمران اتحاد کے رہنماؤں کا اجلاس وزیراطلاعات شیری رحمٰن کی رہائشگاہ پر ہوا جس میں مبینہ آئینی خلاف ورزیوں کے علاوہ بعض دیگر سنگین الزامات بھی شامل ہیں۔

اس اہم مشاورت میں شامل قانون کے وفاقی وزیر فاروق نائیک کا کہنا ہے کہ وہ مواخذے کی کارروائی سے قبل ہی ایوان صدر پر اس قدر دباؤ ڈال دینا چاہتے ہیں کہ پرویز مشرف از خود مستعفی ہونے پر مجبور ہو جائیں۔

شیری رحمٰن کی رہائشگاہ پر ہونے والی مشاورت میں شریک پاکستان مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر مشرف کے خلاف الزامات اتنے ہمہ جہت ہیں کہ چارج شیٹ کئی سو صفحات پر مشتمل ہوگی۔ انہوں نے صدر کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں کہا کہ اس سوال پر فیصلہ حکمران اتحاد کی اعلیٰ قیادت ہی کر سکتی ہے۔

فاروق نائیک کے اس بیان کے بعد مسلم لیگ نواز کے راہنما اسحٰق ڈار نے شیری رحمٰن کی رہائشگاہ سے باہر نکلتے وقت صحافیوں کو بتایا کہ صدر کے خلاف الزامات کی ایک طویل فہرست زیر بحث ہے لیکن ابھی حمتی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ کون سے الزامات باقاعدہ چارج شیٹ میں شامل کئے جائیں گے۔

سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی، سابق سنیٹر فرحت اللہ بابر اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال بھی اجلاس میں موجود ہیں۔ اجلاس کے آغاز میں بتایا گیا تھا کہ حکمران اتحاد ایک ہی روز میں صدر مملکت کے خلاف ’فرد جرم’ تیار کر لے گی لیکن اب ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں دو یا تین دن لگ سکتے ہیں۔

وزیر قانون کی جانب سے صدر پر دباؤ بڑھانے اور پھر اسحٰق ڈار کی جانب سے سنگین الزامات کا ذکر کرنے کے بعد صورتحال اس حد تک واضح ہوتی نظر آ رہی ہے کہ حکمران اتحاد صدر مشرف کے خلاف سنگین نوعیت کی چارج شیٹ تیار کر رہی ہے جس میں شامل الزامات کے ثابت ہونے کی صورت میں صدر کو محفوظ راستہ دینے کے امکانات کو بھی معدوم کر دیا جائے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ان سنگین الزامات کو سامنے لانے کا مقصد ان پر دباؤ بڑھا کر مستعفی ہونے پر مجبور کرنا ہے۔

فاروق نائیک نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ انہیں مکمل اطیمنان ہے کہ ملک کی کوئی بھی عدالت مواخذے کا کارروائی میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

اس سے پہلے اس مواخذے کی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ سوموار سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران چاروں صوبائی اور قومی اسمبلیاں صدر سے اعتماد کا ووٹ لینے کی قرارداد منظور کریں گی جس کے بعد آئندہ ہفتے مواخذے کی باقاعدہ کارروائی شروع کرنے پر غور کیا جائے گا۔

پرویز مشرف(فائل فوٹو)کون کیا کر رہا ہے؟
مواخذہ کے حامیوں، مخالفین کی تیاریاں
صدر کا مواخذہ
’تین سو حامی ہیں مگر ووٹ 315ملیں گے‘
آئینِ پاکستانآئین کیا کہتا ہے
صدر کا مواخذہ کن وجوہات پر ہو سکتا ہے
پرویز مشرف(فائل فوٹو)برخاستگی کی تاریخ
جناح کے علاوہ سب غیر معمولی حالات میں گئے
امین فہیمسیاسی ردِ عمل
’مواخذے کی بات آ بیل مجھے مار والی بات ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد