BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 August, 2008, 07:01 GMT 12:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اور اب سرحد میں بھی عدم اعتماد

 سرحد اسمبلی
سرحد اسمبلی ’گو مشرف گو‘ کے نعروں سے گونجتی رہی
سرحد اسمبلی میں صدر پرویز مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی ہے۔ اس قرارداد میں صدر پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں یا فوری طورپر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

منگل کی صبح سرحد کا اسمبلی کا اجلاس سپیکر کرامت اللہ خان چغرمٹی کی سربراہی میں شروع ہوا تو ایک سو چوبیس کے ایوان میں ایک سو گیارہ اراکین موجود تھے جن میں سے ایک سو سات ممبران نے قرارداد کی حمایت میں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے چار اراکین نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تیرہ اراکین اسمبلی کارروائی سے غیر حاضر رہے۔

قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والوں میں سابقہ دور میں صدر مشرف کے حمایتی پیپلز پارٹی شیر پاؤ گروپ کے ارکان اور آزاد ارکان بھی شامل تھے۔

اس سے قبل ایوان کی کاروائی جب شروع ہوئی تو عوامی نشینل پارٹی کے پارلیمانی رہنما بشیر احمد بلور، ایم ایم اے کے اکرم خان درانی، مسلم لیگ (ن) کے پیر صابر شاہ اور پاکستان پیپلز پارٹی پالیمنٹرینز کے رحیم داد خان نے کھڑے ہوکر چار ایک جیسی قراردادیں پیش کیں جن میں صدر (ر) جنرل پرویز مشرف کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے یا فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔

قراردادوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ صدر مشرف نے آئین پاکستان سے روگردانی کی، دو بار آئین معطل کیا اور ملک کو اقتصادی بدحالی سے دوچار کیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر مشرف کی پالیسوں کی وجہ سے صوبوں میں تناؤ پیدا ہوا ،31 دسمبر 2004 کو وردی اتارنے کے وعدے کی خلاف ورزی کی اور فاٹا اور سرحد میں بےگناہ لوگ مارے گئے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ صدر مشرف اپنے انتخابی حلقے سے اعتماد کا ووٹ لیں یا آئین کے شق 44 (3) کے تحت فوری طور پر مستعفی ہوجائیں ، بصورت دیگر اس کی ناکامی کی صورت میں پارلیمنٹ سے سفارش کی جاتی ہے کہ وہ آئین کی شق 47 کے تحت مواخذے کا نوٹس دے۔

قرراداد کی حمایت میں اراکین اسمبلی نے کھڑے ہوکر ووٹ دیا جبکہ اس دوران وہ گو مشرف گو کے نعرے بھی لگاتے رہے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن شازیہ اورنگرزیب نے صدر مشرف کا ایک پوسٹر ایوان کے اندر پھاڑ ڈالا اور اس دوران شازیہ اور مسلم لیگ (ق) کی رکن اسمبلی نگہت اورکزئی کے درمیان چھینا جھپٹی بھی ہوئی۔

اسی بارے میں
مواخذے تک اجلاس جاری
11 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد