صدراعتماد کا ووٹ لیں:پنجاب اسمبلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی نے صدر پرویز مشرف کے خلاف اکثریت رائے سے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں ان سے اعتماد کا ووٹ لینے یا مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر پارلیمان سے ان کے مواخذے کی سفارش کی گئی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں قواعد و ضوابط معطل کرکے پیش کی جانے والی قرارداد کو تین سو اکیس ووٹوں کی اکثریت سے منظور کیا گیا۔ مسلم لیگ قاف نے اس کی مخالفت کی لیکن اس کے صرف پچیس اراکین نے ہی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ مسلم لیگ قاف کے باقی اٹھاون اراکین میں سے بیشتر نے صدرمشرف کی مخالفت کی ہے۔ ایوان میں مسلم لیگ قاف کے اراکین کی تعداد تراسی ہے مجموعی طور پر تئیس غیر حاضر تھے اور مسلم لیگ قاف کے فارورڈ بلاک کہلانے والے اراکین نے مشرف کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ یہ قرار داد منظور ہوتے ہی ایوان گو مشرف گو، مک گیا تیرا شو مشرف اور زندہ ہے بی بی زندہ ہے کہ نعروں سے گونج اٹھا۔ اراکین اسمبلی نے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کو مبارکبادی۔ قرارداد صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے پیش کی جس میں صدر کے انتخاب کو غیر قانونی قراردیا گیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے دو بار آئین توڑا، جہوریت کو پٹٹری سے اتارا، صوبوں میں باہمی کشیدگی کو ہوا دی جس سے وفاق کمزور ہوا جبکہ ملک سیاسی و معاشی بحران کا شکار ہوکر بند گلی میں چلاگیا۔ قرار داد میں کہا گیا کہ چونکہ پنجاب اسمبلی صدارتی انتخاب کاحصہ ہے اس لیے یہ ایوان ان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس سے اعتماد کا ووٹ لیں مستعفی ہوں بصورت دیگر پارلیمان ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کرے۔
قائد حزب اختلاف چودھری ظہیر الدین سمیت مسلم لیگ قاف کے چند اراکین نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد پنجاب اسمبلی کے لیے غیر متعلقہ ہے اور اسے پیش کرنے کے لیے قواعد وضوابط معطل نہیں کیے جاسکتے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے ان کے موقف سے اتفاق نہیں کیا۔ قرار داد کی منظوری کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب جاگ اٹھا ہے اور پنجاب کی پگ کو دوبارہ اس کے سر پر رکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے مواخذے کے بعد نواز شریف اور آصف زرداری اپنے وعدے کے مطابق عدلیہ کو دونومبر والی پوزیشن پر بحال کردیں گے۔ سنئیر وزیر راجہ ریاض نےاسے ایک تاریخی دن قرار دیا اور کہا کہ صدر مشرف کے لیے بہتر ہے کہ وہ خود ہی استعفیٰ دیکر چلے جائیں۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا کہ ایوان صدر پر پیپلز پارٹی کا حق ہے اور پرویز مشرف کے چلے جانے کے بعد پیپلزپارٹی کا ہی کوئی کارکن ایوان صدر میں بیٹھا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آج کی گنتی میں ان کی یہ بات ثابت ہوئی کہ مسلم لیگ قاف کے نامزدکردہ چودھری ظہیر الدین قائد حزب اختلاف نہیں بن سکتے تھے کیونکہ انہیں اپوزیشن کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ قرارداد کی منظوری کے لیے حکمران اتحاد نےخاص طور پر سپیکر سے درخواست کی تھی کہ قرارداد کو محض ہاتھ اٹھا کر منظور نہ کیا جائے بلکہ حق اور مخالفت کے ووٹوں کی گنتی کی جائے۔ حکمران اتحاد کے اعلان کے مطابق اسی طرح کی قراردادیں دیگر تینوں صوبائی اسمبلیوں سے منظور کی جائیں گی۔ تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے مواخذے کے معاملے میں صوبائی اسمبلی کی ان قراردادوں کی صرف سیاسی اہمیت ہے اور یہ صدر مشرف پر محض سیاسی دباؤ میں اضافہ کا سبب ہی بن سکتی ہیں۔ | اسی بارے میں ’مشرف کا ساتھ دینا غلطی تھی‘11 August, 2008 | پاکستان مشرف، چارج شیٹ کی تیاریاں 11 August, 2008 | پاکستان ’وعدہ وفا کریں، اعتماد کا ووٹ لیں‘11 August, 2008 | پاکستان ’مواخذہ قرارداد عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکتی‘09 August, 2008 | پاکستان مواخذہ: حامیوں اور مخالفین کی تیاریاں08 August, 2008 | پاکستان اسمبلی اجلاس گیارہ اگست کو09 August, 2008 | پاکستان مواخذہ:مشرف الزامات کی تیاری10 August, 2008 | پاکستان ’اسمبلی توڑنے کا کوئی جواز نہیں‘09 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||