BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 August, 2008, 00:02 GMT 05:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وعدہ وفا کریں، اعتماد کا ووٹ لیں‘

پنجاب اسمبلی
پنجاب اسمبلی میں حکمران اتحاد کے ارکان کی تعداد دو سو ستر سے زائد ہے
پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں سوموار کو ایک قرارداد پیش کیئے جانے کی توقع ہے جس میں صدر جنرل پرویز مشرف سے نو منتخب صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

یہ قرارداد حکومتی اتحاد کے اس فیصلہ کے تحت پنجاب اسمبلی میں پیش کی جارہی ہے جس کے تحت چاروں صوبائی اور بعد میں قومی اسمبلی سے قراردادیں منظور کرائی جائیں جس میں ان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس صدارتی انتخابات کے لیے جب پرویز مشرف کی اہلیت کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیا گیا تھا تو انہوں نے اپنے وکیل کی معرفت عدالت میں وعدہ کیا تھا کہ وہ نئے انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے لیکن صدر پرویز مشرف نے تاحال اعتماد کاووٹ حاصل نہیں کیا۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ حکمران اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس سوموار کو ہوگا جس میں قرارداد کی منظوری لی جائے گی۔

وزیر قانون کے بقول اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر سے یہ استدعا کی جائے گی کہ وہ معمول کی کارروائی کو روک کر اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی اجازت دیں۔

رانا ثنااللہ نے بتایا کہ وہ خود اجلاس میں یہ قرار داد پیش کریں گے جس کے بعد اس قرار داد پر باضابطہ بحث کی جائے گی اور بحث مکمل ہونے پر رائے شماری کی جائے گی۔

پنجاب اسمبلی میں کل ارکان کی تعداد تین سو اکہتر ہے جبکہ اسمبلی کی دو نسشتیں خالی ہیں۔پنجاب اسمبلی میں حکمران اتحاد کے ارکان کی تعداد دو سو ستر سے زائد ہے۔

ادھر حکمران اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور سینئر وزیر راجہ ریاض نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جو لوگوں اس وقت صدر پرویز مشرف کو موخذاے کا دفاع کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں وہ ان سے دوستی نہیں بلکہ دشمنی کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے ساتھی ان کو چھوڑ چکے ہیں، وہ یا تو اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے یا پھر اجلاس کا بائیکاٹ کردیں گے۔

یاد رہے سترھویں آئینی ترمیم کے منظور ہونے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے یکم جنوری سنہ دو ہزار چار کو بطور صدر مملکت اپنے عہدہ کی توثیق کے لئے قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل ارکان کی اکثریت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا اور غیر حاضر رہے تھے جبکہ مجلس عمل کے ارکان حکومت سے ایک معاہدے کے تحت ایوانوں میں موجود رہے تھے لیکن انہوں نے قرار داد کے حق یا مخالفت میں ووٹ نہیں دیا تھے۔

پنجاب اسمبلی میں تین سو اکہتر ارکان میں سے دو سو چون ارکان نے جنرل مشرف کے حق میں ووٹ دیا اور سات ارکان نے راۓ شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ پیپلز پارٹی او مسلم لیگ(ن) کے ارکان غیر حاضر رہے۔

واضح رہے سنہ دو ہزار چار میں پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں نے اپنےاپنے اجلاسوں قرارادادیں منظور کی تھی جن میں جس میں صدر جنرل پرویز مشرف سے کہا گیا ہے کہ وردی نہ اتاریں اور صدر اور آرمی چیف کے عہدے اپنے پاس رکھیں۔

اسی بارے میں
اسمبلی اجلاس گیارہ اگست کو
09 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد