BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 August, 2008, 13:12 GMT 18:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مواخذے تک اجلاس جاری

اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا جا سکتا
صدر پرویز مشرف کے ساتھ کشیدگی کے بعد قومی اسمبلی کی تحلیل کے خدشات کے پیش نظر پاکستان میں حکمران اتحاد نے قومی اسمبلی کا رواں اجلاس پرویز مشرف کے کرسی صدارت سے برخاستگی تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یا قومی اسمبلی کا چھٹا اجلاس سوموار کی شام اسلام آباد میں شروع ہوا جس میں صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیں۔ تاہم صدر پر سیاسی دباؤ کے لئے استعمال ہونے والی یہ قرارداد اور اسی نوعیت کی قراردادیں صوبائی اسمبلیوں سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت پاکستان پیپلز پارٹی اور اسکی اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی پر مشتمل حکمران پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے وزیرخزانہ سید نوید قمر نے کہا کہ اجلاس میں بعض ارکان نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ صدر مشرف مواخذے سے قبل کسی انتہائی اقدام کی تیاریوں میں ہیں اور ان کی جانب سے قومی اسمبلی کی تحلیل کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

لہذا پارلیمانی پارٹی نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس کو اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک صدر مشرف ازخود مستعفی نہیں ہو جاتے یا انکے خلاف مواخذے کی کارروائی مکمل نہیں کر لی جاتی۔

اجلاس میں بیشتر ارکان اور قانون دانوں نے خیال ظاہر کیا کہ پارلیمانی روایات کے مطابق صدر مملکت اس صورت میں قومی اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے جب کہ اس کا اجلاس جاری ہو۔ تاہم اس روایت کو آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں موجود ارکان سے تین ایسے صفحات پر دستخط بھی حاصل کیے گئے جن پر کوئی عبارت درج نہیں تھی ۔ اس بارے میں حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز صدر مملکت کے خلاف مواخذے کی صورت میں پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنے اور مواخذے کی تحریک کی تیاری کے لیے حاصل کیے گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ ان دستاویز پر دو سو سے زائد ارکان قومی اسمبلی سے دستخط حاصل کئے گئے ہیں جبکہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تمام ارکان پارلیمنٹ ان کاغذات پر دستخط ثبت کریں گے جو جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئینی صدر نہیں مانتے اور ان سے نجات حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

پارلیمانی پارٹی کے اس خصوصی اجلاس میں صدر مشرف کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں ان کے مواخذے کی کارروائی کے آغاز کے وقت کے تعین پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور اس بارے میں تاریخوں کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم نے حکومتی ارکان کو اپنے دورہ امریکہ کے بارے میں بھی اعتماد میں لیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد