BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 August, 2008, 12:21 GMT 17:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ میں بھی ’گو مشرف گو‘

’سندھ اسمبلی نے اس سے قبل ملک بنانے کے لیے قرار داد منظور کی تھی اور آج ملک بچانے کی لیے یہ قرار منظور کی جا رہی ہے‘
سندھ اسمبلی نے صدر پرویز مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کرلی ہے۔ صوبائی اسمبلی میں صدر مشرف کا دفاع کرنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ ایم کیو ایم اور اپوزیشن کے اراکین ایوان میں غیر حاضر رہے۔ حکمران جماعت نے ایم کیو ایم کے اس عمل کو ان کے موقف کی حمایت قرار دیا ہے۔

بدھ کو جیسے ہی صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے تمام بزنس مؤخر کرکے قرار پیش کرنے کی گزارش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا۔

اس کے بعد صوبائی وزیر نے قرار داد پیش کی جس میں صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے الیکٹرول کالج سے اعتماد کا ووٹ لیں یا مستعفی ہوجائیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے توان کا مواخدہ کیا جائے۔

قرار دادا پیش ہونے کے بعد صوبائی وزیر شازیہ مری، سیف اللہ دہاریجو، ایاز سومرو، رفیق انجنیئر، شہلا رضا اور پیر مظہرا لحق نے اپنی تقریر میں صدر پرویز مشرف کو بینظیر بھٹو کا قاتل قرار دیا اور کہا کہ وہ اس قرار داد کے ذریعے ان سے انتقام لے رہے۔

مقررین نے اپنی تقاریر میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور ان پر تشدد ، بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے بلوچستان اور ملکی صورتحال کا ذمہ دار صدر پرویز مشرف کو قرار دیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر صوبائی اسمبلی کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو اس کے بعد ملکی سلامتی کو پہنچنے والے نقصان کے ذمہ دار بھی وہی لوگ ہوں گے۔ مقررین کے مطابق سندھ اسمبلی نے اس سے قبل ملک بنانے کے لیے قرار داد منظور کی تھی اور آج ملک بچانے کی لیے یہ قرار منظور کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ پنجاب، سرحد اور اب سندھ اسمبلی صدر مشرف کو جانے کے لیے کہہ چکی ہیں مگر وہ سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تقاریر کے بعد سندھ اسمبلی کے ترانوے اراکین نے صدر مشرف کے خلاف اس قرار داد کو منظور کرلیا، جس کے بعد ایوان گو مشرف گو نے نعروں سے گونج اٹھا۔مسلم لیگ ق کے تین اراکین عابد سندرانی، میر غالب ڈومکی اور سجیلا لغاری نے بھی اس قرار داد کی حمایت کی۔

’قاف لیگ چھوڑنے والا لوٹا نہیں‘
 پاکستان پیپلز پارٹی ہی اس ملک کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی ہے اگر پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر کسی اور جماعت میں کوئی جاتا ہے تو اسے لوٹا کہنا چاہیئے لیکن مسلم لیگ ق کو چھوڑ کر جمہوریت کی حمایت کرنے والے کو لوٹا نہیں کہا سکتا
میر غالب ڈومکی

میر غالب ڈومکی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی اس ملک کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی ہے اگر پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر کسی اور جماعت میں کوئی جاتا ہے تو اسے لوٹا کہنا چاہیئے لیکن مسلم لیگ ق کو چھوڑ کر جمہوریت کی حمایت کرنے والے کو لوٹا نہیں کہا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ق کا سندھ میں کوئی ووٹ نہیں ہے اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ مسلم لیگ قاف نے انہیں کامیاب کرایا بلکہ وہ ذاتی حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں۔

قرار داد منظور ہونے کے بعد سینئر وزیر پیر مظہر الحق نے متحدہ قومی موومنٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا انہوں نے غیر موجود ہوکر یہ موقع فراہم کیا ہے کہ یہ تحریک یک رائے منظور ہوجائے اور انہوں نے وہ وعدہ پورا کیا۔

دوسری جانب قائد حزب اختلاف جام مدد علی نے اپنے چیمبر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرار داد غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اس لیے انہوں نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

اسی بارے میں
مواخذے تک اجلاس جاری
11 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد