’جیسے زمیں سے گھاس جاتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے بالآخر پیر 18اگست 2008ءکو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر کے عہدے سے مستعفی ہونےکا اعلان کر دیا اور 12اکتوبر 1999ءکی رات شروع ہونے والا براہ راست فوجی اقتدار کا یہ عہد بالآخر اختتام کو پہنچا۔ اُردو کے جواں مرگ شاعر محمد انور خالد کی ایک نظم کہتی ہے ’سو وہ ایسے گیا، جیسے زمیں سے گھاس جاتی ہے‘ شاعر نے اِس نظم میں آمریت کے انجام کو’سراسر حادثاتی‘ قرار دیا ہے۔ پرویز مشرف کا آٹھ سال دس مہینے اور ایک ہفتے پر محیط یہ عہد بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک حادثہ ہی کہلائے گا۔ آمریت آئین کی پامالی، آئینی اداروں کی توہین، سیاسی مکالمے کےتعطل اور اجتماعی ترقی کے عمل کو ہنگامی بے یقینی کے سپرد کرنے کا نام ہے۔ پرویز مشرف کا دورِ صدارت پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسے طویل وقفے کی حیثیت پائے گا جسے آئین کی لُغت میں کوئی معنی نہیں دیا جا سکتا اور جمہوریت کے اصولوں میں جس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ پرویز مشرف کے بطور فوجی سربراہ آئینی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کو جدید عالمی تاریخ میں ایک خاص اعتبار سے روایت سے اِستثنیٰ سمجھا جاتا ہے۔ پرویز مشرف نے سرد جنگ ختم ہونے کے بعد اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔
بیسویں صدی میں جمہوری اور سیاسی قوتوں کے مقابلے میں غیر نمائندہ اور غیر منتخب سیاسی اور معاشی مفادات کی نمائندگی کرنے والی قوتوں کے اقتدار پر قابض ہونے کی روایت موجود تھی۔ اٹلی کے مسولینی اور سپین کے جنرل فرانکو سے لے کر ارجنٹائن کے پیرون اور نکاراگوا کے جنرل سموزا تک فوجی قوت سے اپنا جواز اخذ کرنے والے غیر جمہوری شخصی اقتدار کی مثالیں موجود تھیں۔ تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد اشتراکی دنیا اور سرمایہ دار دنیا میں سرد جنگ نے شخصی اقتدار کی اس روایت کو بالکل نئے خدوخال بخشے۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے نوآزاد ملکوں میں مقبول سیاسی قیادتوں کو معزول کر کے اقتدار پر زبردستی قابض ہونے کی روایت نے ایک مانوس نمونہ اختیار کر لیا۔ بندوق کے بل پر اپنے ہی ملکوں کو فتح کرنے والے فوجی آمر اپنی سرپرستی کے لیے اشتراکی یا سرمایہ دار بلاک میں سے ایک کا انتخاب کر لیتے تھے۔ اِس سے اُن کی سیاسی تنہائی بھی ختم ہوتی تھی اور معاشی بقا کو بھی یقینی بنایا جا سکتا تھا۔
ایک بڑی تعداد اُن شعبدہ بازوں آمروں کی بھی تھی جو بیک وقت اشتراکیت کی سُرخ ٹوپی اور سرمایہ داری کا دھاری دار ہیٹ تیار رکھتے تھے۔ ایک بلاک سے معاملہ نہ ہونے کی صورت میں دوسرے بلاک سے پینگیں بڑھانے کی دھمکی دی جاتی تھی۔ اِن آمروں کا اپنے عوام سے سلوک، انسانی حقوق کی پامالی اور بعض حالات میں وسیع پیمانے پر تشدد آمیز کارروائیوں سے روس اور امریکہ کو کوئی غرض نہیں تھی۔ بڑی طاقتوں کا اصل مقصد دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے فوجی مفادات، معاشی اثر و نفوذ اور سیاسی رسوخ کو برقرار رکھنا تھا۔ امریکہ اگر عراق کے صدام حسین، ایران کے رضا شاہ پہلوی، چلّی کے پنوشے یا فلپائن کے مارکوس کی حمایت کرتا تھا تو استعمار دشمنی کا دعویٰ رکھنے والے سوویت یونین کو کمبوڈیا کے پول پاٹ، شمالی کوریا کے کم ال سنگ یا یوگنڈا کے عدی امین کی سرپرستی میں عار نہیں تھا۔
جب کسی غیر متوقع بحران یا عوام کے غیر معمولی احتجاج کی صورت میں آمر کو بادلِ نخواستہ اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑتا تھا تو ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا تھا کہ معزول آمر عوام کے غیظ و غضب سے محفوظ رہنے کے لیے کہاں پناہ لے گا؟ اشتراکی بلاک کی طفیلی ریاستوں میں تو ایسی صورت کم ہی پیدا ہوتی تھی کیونکہ عوامی احتجاج کے راستے بند تھے اور اقتدار کی داخلی کشمکش کا شکار ہونے والے ڈکٹیٹر کو گرفتار کر کے روس پہنچا دیا جاتا تھا۔ تاہم امریکہ کے دستِ نگر آمروں کا مخمصہ یک گونہ مختلف نوعیت رکھتا تھا۔ امریکہ کے لیے اپنے جمہوری دعوؤں اور عوامی دباؤ کے پیش نظر اپنے سابق بندگانِ جہاں پناہ بلکہ بے پناہ کو امریکی زمین پر پناہ دینا مشکل تھا۔ ایران کے رضا شاہ فروری 1979ءمیں معزول ہوئے تو اُنھیں مصر میں پناہ لینا پڑی۔ چلّی کے پنوشے پناہ کی تلاش میں اٹلی پہنچے۔ فلپائن کے مارکوس کو جزائر ہوائی میں جلاوطنی نصیب ہوئی۔ پانامہ کے جنرل نوریگا کو استثنیٰ سمجھنا چاہیے کہ اُنھیں باقاعدہ فوجی کارروائی کر کے گرفتار کیا گیا اور منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ صدام حسین نے اپنے اقتدار کا آغاز امریکی سرپرستی ہی میں کیا تھا۔ مگر بیچ میں کویت اور کچھ ایسے جھگڑے آن پڑے کہ اُنھیں بغداد ہی میں پھانسی پر جھولنا پڑا۔ چند برس پہلے مسلم اکثریتی ملکوں میں آمریت کی بلند شرح کے پیشِ نظر امریکی سرپرستوں نے سعودی عرب کی صورت میں جلاوطنی کا ایک مقبول ٹھکانہ تلاش کیا۔ مسلمانوں کے لیے سعودی عرب سے تقدیس کی بھی وابستگی ہے اور سعودی عوام کو احتجاج وغیرہ کا حق بھی میسر نہیں۔ یوگنڈا کے عدی امین سعودی عرب ہی میں رکھے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جدّہ کا سرور پیلس آج بھی کسی نئے مہمان کے لیے خالی رکھا گیا ہے۔
پرویز مشرف کو سوویت یونین اور امریکی کش مکش کا فائدہ حاصل نہیں تھا۔ چنانچہ اقتدار سنبھالنے کے بعد کم و بیش دو برس تک اُنھیں عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بِل کلنٹن چند گھنٹوں کے لیے پاکستان آئے تو اُنھوں نے فوجی صدر کے ساتھ رسمی تصویر تک اُتروانا پسند نہیں کیا۔ لیکن 11ستمبر 2001ءکے دہشت گرد حملوں سے پرویز مشرف کی قسمت کھل گئی۔ اب وہ امریکیوں کو سوویت یونین کی جگہ مذہبی انتہا پسندوں کا ہوّا دِکھا سکتے تھے۔ پاکستان میں جمہوری روایت کبھی مضبوط نہیں ہوئی۔ لیکن عسکری آمریت ہو یا جمہوری لبادے میں آمرانہ اُمنگیں، ایک فرق واضح ہے۔ عوامی تائید کے بل پر حکومت کرنے والوں کا انجام زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔ لیاقت علی خان سیاسی رہنما تھے، قتل ہوئے۔ بھٹو سیاسی قوتوں کی نمائندگی کرتے تھے، پھانسی پا گئے۔ نواز شریف کو عوامی تائید ملی تو اُنھیں اٹک قلعہ میں قید و بند اور پھر سعودی عرب میں طویل جلاوطنی نصیب ہوئی۔ بے نظیر بھٹو پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقبولیت رکھتی تھیں، سو اُنھیں ہزاروں کے مجمعے میں قتل کیا گیا۔ دوسری طرف غیر سیاسی اور غیر جمہوری پس منظروالے پاکستانی حکمران زیادہ خوش نصیب ثابت ہوئے۔ غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑی، وزیر اعظم برطرف کئے لیکن بستر میں موت نصیب ہوئی۔ سکندر مرزا برج کھیلنے کے شائق تھے اور سیاسی وزرائے اعظم کو پتّوں کی طرح پھینٹتے تھے، لندن میں طبعی موت پائی۔ ایوب خان اقتدار سے علیحدگی کے بعد اپنے گاؤں ریحانہ میں فوت ہوئے۔ یحییٰ خان کی صدارت میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔ یحییٰ خان نے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں موت پائی اور فوجی اعزاز کے ساتھ دفن ہوئے۔ ضیاءالحق کی موت حادثاتی تھی لیکن اُن کی تدفین فوجی اعزاز کے ساتھ ہوئی۔
پرویز مشرف کے استعفے کے باعث مواخذے کا عمل خودبخود ختم ہو گیا ہے۔ مواخذے کی تحریک پر پارلیمانی مباحثے کی صورت میں فوج کے ادارے کا وقار محفوظ رکھنا مشکل ہو جاتا۔ غالباً امکان ہے کہ پرویز مشرف کے گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد گزشتہ آٹھ برس کے اقدامات لپیٹ دیے جائیں گے۔ البتہ یہ امر ابھی تک قیاس آرائیوں کی زد میں ہے کہ پرویز مشرف جلاوطنی کا زمانہ کہاں گزاریں گے۔ (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں) |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||