BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 December, 2006, 03:42 GMT 08:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آگستو پنوشے کی سوانح عمری
پنوشے دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوئے
جنرل آگستو پنوشے نے چلی کے منتخب رہنما سلواڈور آلندے کی مارکسسٹ حکومت کے خلاف ہونے والی فوجی بغاوت کی قیادت کی تھی۔ اس فوجی بغاوت کے خلاف جدوجہد اور اس کے ردعمل میں ہونے والے سرکاری جبرو استبداد نے دنیا کو ہلا کر رکھا دیا۔

انیس سو تہتر میں ہزاروں کی تعداد سرکاری طور پر شر پسند قرار دیئے جانے والے لوگوں کو سینتیاگو کے قومی فٹ بال اسٹیڈیم میں گرفتار کیا گیا۔ ان میں کچھ لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

جنرل پنوشے نے اقتدار سنبھالنے کے بعد لمبے عرصے تک انتخابات نہیں کرائے اور قومی پارلیمان معطل رہی۔

سیاسی مخالفین کو مٹانے کی حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ملک میں ہنگامہ، گرفتاریاں اور سرکاری جبر روزمرہ کا معمول بن گئے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اٹھالیئے گئے اور ان کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ جنرل پنشوے چلی کو کیمونزم سے بچانے کے دعوے کرتے رہے۔

 آگستو پنوشےکا خیال تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد پرسکون زندگی گزار سکیں گے۔ برطانیہ وہ اکثر آتے رہتے تھے جہاں ان کے بہت سے دوست تھے۔ انیس سو اٹھاسی میں وہ برطانیہ ہی میں علاج کے دوران گرفتار کیئے گئے۔

آگستو پنوشے اگارتے انیس سو اکاون میں پیدا ہوئے اور اپنے چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ انہوں نے فوجی تربیت حاصل کرنے کے بعد اٹھارہ سال کی عمر میں فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔

انیس سو انہتر میں وہ چیف آف سٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے اور انیس سو تہتر میں انہیں ترقی دے جنرل اور کمانڈر ان چیف بنا دیا گیا۔

اس وقت چلی کے مارکسس رہمنا سلواڈور آلندےکو منتخب ہوئے ابھی تین سال کا عرصہ ہوا تھا۔ سیاسی کشمکش، افراط زر اور اقتصادی بدحالی کی وجہ سے جون میں ان کی حکومت کے خلاف ایک ناکام فوجی بغاوت ہوئی۔

سیاسی مخالفین ان کے خلاف جدوجہد کرتے رہے

دو ماہ بعد آلندے نے جنرل پنشوے پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں فوج کا کمانڈر ان چیف یا سپہ سلار اعلی مقرر کیا۔ صرف چند ماہ بعد ستمبر میں جنرل پنوشے نے آلندے کو اقتدار سے علیحدہ ہونے یا فوجی بغاوت کا سامنا کرنے کی دھمکی دی۔

آلندے کے محل پر فوج کشی کے وقت ایلینڈ کو مردہ حالت میں پایا گیا۔ ان کی بیوہ کے مطابق انہیں بغاوت کرنے والوں نے قتل کیا جبکہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ انہوں نے خودکشی کر لی تھی۔

دو دن بعد جنرل پنوشے کو صدر نامزد کر دیا گیا۔ شہری حقوق معطل کر دیئے گئے اور مارکسسٹ جماعت پر پابندی لگادی گئی۔ اس کے ساتھ ہی مزدور تنظیموں کے اختیارات کو کم کر دیا گیا اور ملک میں سینسر شپ نافذ کر دی گئی۔ اس صورت حال میں بہت سے دانشور ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

اس بات کا انکشاف بعد میں ہوا کہ سیلواڈور ایلینڈ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیئے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے کروڑوں ڈالر مہیا کیئے تھے۔ تاہم جنرل پنوشے کے انتقال پر امریکی حکومت نے ان کے دور میں ہونے والے مظالم پر چلی کے عوام سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔

انیس سو چوہتر میں جنرل پنوشے نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا اور انیس سو اٹہتر میں قوم سے مشورے کے نام پر ہونے والے ریفرنڈم میں انہیں پچھہتر فیصد ووٹ ڈالے گئے۔

انیس سو اسی میں نئے آئین کو منظور کیا گیا اور جنرل پنوشے آٹھ سال کے لیے دوبارہ صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔

پنوشے کا ملک واپیس پر زبردست استقبال کیا گیا

انیس سو اسی میں پنشوے کی سیاسی مشکلات بڑھ گئیں۔ پنشوے کے اقتصادی اصلاحات سے افراط زر کم ہوا جس سے معاشرے کے کچھ حصوں کو فائدہ ہوا۔

انیس سو اکاسی میں بے روز گاری اتنی بڑھ گئی اور معاشی کساد بازاری کی وجہ سے ملک میں بدامنی پھیل گئی۔

انیس سو بیاسی کی فاکلینڈ جنگ میں چلی نے ارجنٹینا کے خلاف برطانیہ کی خفیہ طور پر مدد کی اور اسی کے عوض مارگریٹ تھیچر نے چلی پر ہتھیاروں کی فروحت پر پابندی اٹھا لی۔

جنرل پنوشے نے کچھ برسوں میں عالمی طور پر اپنے لیئے جگہ بنالی اور انہوں نے کچھ جمہوری رعایات دے دیں۔ لیکن انیس سو اٹھاسی میں عوام کو ووٹ ڈالنے کا حق ملا تو چون فیصہ اکثریت نے پنوشے کی حکومت کے خلاف رائے دی۔

انہوں نے بڑے لیت و لعل کے بعد انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوگئے لیکن پھر بھی انہوں نے فوری طور پر اقتدار سےعلیحدہ ہونے سے انکار کر دیا اور دو سال بعد صدر کے عہدے سے دستبردار ہوگئے۔

اس کے باوجود انہوں نے فوج کے سپہ سلار کا عہدہ مزید سات سال تک چھوڑنے سے انکار کر دیا اور ملک کی نو منتخب پارلیمنٹ میں تاحیات سینیٹر بن گئے۔

آگستو پنوشےکا خیال تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد پرسکون زندگی گزار سکیں گے۔ برطانیہ وہ اکثر آتے رہتے تھے جہاں ان کے بہت سے دوست تھے۔ انیس سو اٹھاسی میں وہ برطانیہ ہی میں علاج کے دوران گرفتار کیئے گئے۔

سپین کی ایک عدالت نے انہیں انسانی حقوق کی پامالی کے الزام میں سپین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ اور سپین میں یہ قانونی رسا کشی بہت دنوں تک چلتی رہی اور برطانوی حکومت نے انہیں نظر بند کر دیا۔

مارگریٹ تھیچر اور کچھ پرانے دوستوں نے نظر بندی کے دوران ان کا خیال رکھا۔
ان کے مخالفیں کو اس وقت بہت غصہ آیا جب برطانیہ میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے کہا کہ پنوشےکی صحت اس قابل نہیں ہے کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے اور برطانوی حکومت نے انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔

مارچ دو ہزار میں وہ ایک خصوصی طیارے کے ذریعے چلی واپس چلے گئے جہاں فوج اور ان کے حامیوں نے ان کا زبردست استقبال کیا۔

کچھ ہفتوں بعد سینتیاگو میں ایک عدالت نے ان پر مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی۔ مارچ دو ہزار پانچ میں ایک اعلی عدالت نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو کلعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنوشے پر آپریشن کونڈور کے دوران سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے الزام میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

مرتے دم پر ان پر سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کے علاوہ کی کروڑ ڈالر کے گھپلے کا الزام لگتا رہا۔

جنرل پنوشے کی خرابیِ صحت کی وجہ سے ان پر مقدمہ نہیں چلایا جاسکا اور ان کے بارے میں لوگوں کی رائے جذباتی حد تک منقسم رہی۔

اسی بارے میں
چلی کے پنوشےکا انتقال
10 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد