پنوشے کی موت کے بعد فسادات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چلی کے سابق فوجی حکمراں اگسٹو پنوشو کی موت کے بعد دارالحکومت سانٹیاگو میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر جمع ہو گئے اور اس موقع پر ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ ایک طرف جہاں ان کےحامی انہیں خراج عقیدت پیش کرنے پہنچے تودوسری طرف اس موقع پر پنوشے کے مخالفین سڑکوں پر آ کر خوشی میں ناچنے گانے لگے۔ اس موقع پر پولیس کو پنوشے کے مخالفین کو ان کے حامیوں سے الگ رکھنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ مظاہرین نے اس کے بعد گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے متعدد لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ جنرل پنشونے1973 میں منتخب مارکسسٹ جمہور ی حکومت کا تختہ پلٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ سابق صدر کے حامی ملٹری ہسپتال کے باہر جمع تھے جہاں جنرل پنوشے کا اتوار کو 91 برس کی عمرمیں انتقال ہو گیا تھا۔
چلی کی حکومت نے کہا ہے کہ سابق فوجی حکمران کی آخری رسومات سرکاری طور پرادا نہیں کی جائیں گی تاہم جنرل پنوشے کو منگل کے روز فوجی اعجاز کےساتھ سپرد خاک کیا جائےگا۔سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ اس موقع پرقومی پرچم سر نگوں رہےگا۔ اگسٹو پنوشے نے 1973 میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ملک پر 17 برس تک حکومت کی تھی۔ ان پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کافی الزامات لگائے جاتے رہے ہیں لیکن ان کی کمزور صحت کے باعث ان پر مقدمے نہیں چلے۔ | اسی بارے میں پنوشے:خفیہ اکاؤٹنس پر پوچھ گچھ21 August, 2004 | آس پاس چلی میں فوجی حکومت پر رپورٹ29 November, 2004 | آس پاس جنرل پنوشے پر فالج کا حملہ18 December, 2004 | آس پاس چلی کے پنوشےکا انتقال10 December, 2006 | آس پاس آگستو پنوشے کی سوانح عمری11 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||