چلی میں فوجی حکومت پر رپورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاطینی امریکہ کے ملک چلِی کے صدر ریکارڈو لاگوس نے کہا ہے کہ وہ پارلیمینٹ کو یہ تجویز کریں گے کہ ان اٹھائیس ہزار افراد کو عمر بھر کے لئے خصوصی پینشن دی جائے جن پر ملک میں جنرل پینوشے کی فوجی حکومت کے دوران تشدد کیا گیا تھا۔ قومی ٹی وی پر مسٹر لاگوس کی طرف سے کیا جانے والا یہ اعلان انٹرنیٹ پر اُس سرکاری رپورٹ کی اشاعت کے ساتھ ہی ہوا ہے جس کا بہت عرصے سے انتظار تھا اور جس میں جنرل اگستو پینو شے کی انیس سو تہتر سے لے کر انیس سو نوے تک کی حکومت کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعات کی تحقیق کی گئی ہے۔
مسٹر لاگوس نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس رپورٹ سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ تشدد کرنا جنرل پینو شے کے دور حکومت میں ریاستی پالیسی کا حصہ تھا۔ اس رپورٹ میں جو، کئی ہزار لوگوں کی گواہیوں پر مبنی ہے، تشدد کی ایسی اٹھارہ بڑی اقسام بتائی گئی ہیں جنہوں جنرل پینوشے کے دور میں استعمال کیا جاتا تھا۔ ان میں دم گھوٹ کر مارنا، بجلی کے جھٹکے دینا اور جنسی زیادتی بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز میں سب سے پسندیدہ تشدد کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ گرفتار شدر افراد کو دوسرے قیدیوں پر تشدد ہوتے یا انہیں ہلاک کرتے ہوئے دکھایا جاتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس دور میں تین ہزار سے زیادہ خواتین اور بارہ سال سے کم عمر کے بچے بھی اس تشدد کا نشانہ بنے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||