BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 August, 2008, 23:15 GMT 04:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج چاہے گی مشرف خفت سے بچ جائیں‘

صدر مشرف
’صدر مشرف نے ماضی میں بھی سیاسی بحرانوں کا ڈٹ کر سامنا کیا ہے‘
برطانوی اور امریکی اخبارات میں پاکستان کی سیاسی صورتِ حال خصوصاً صدر مشرف کے مواخذے کی خبریں شہ سرخیوں میں رہی ہیں۔

برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کی فوج صدر مشرف کو کہے گی کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ فوج کی قیادت چاہے گی کہ صدر مشرف مواخذے کی خفت سے بچ جائیں۔

اخبار کے مطابق پاکستان فوج اور امریکہ دونوں ہی اعلانیہ طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کی اندرونی سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے۔

دوسری طرف دی ٹیلیگراف مسلم لیگ ق کے رہنما چوھدری شجاعت حسین کے حوالے سے یہ بھی لکھتا ہے کہ ان کے پاس ثبوت ہے کہ اتحادی رہنما صدر مشرف کے مواخذے پر پی پی پی کے آصف زرداری کو صدر بنائے جانے کے معاہدے کے بعد ہی متفق ہوئے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کے اہم حلیف صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف حکمران اتحادی پارٹیوں کیطرف سے مجوزہ مواخذہ پہلے سے ہی عدم استحکام میں گھرے پاکستان جیسے جنوبی ایشیائی ملک کو مزید خطرات کی طرف دھکیل دے گا۔

ایسے تبصروں کے بیچ ایک امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے جمعے کے روز کہا ہے کہ امریکی فوج اور انٹیلیجنس ایجینسیاں صدر بش پر زور دے رہی ہيں کہ وہ پاکستان میں القاعدہ کے لوگوں کا پیچھا کرنے کے لیے امریکی فوج کو اقدامات کرنے کے احکامات میں لچک اختیار کریں۔

اخبار دی ٹائمز کی سرخی ہے ’مواخذہ، سازش اور طاقت کا کھیل‘۔ اخبار کے مطابق ابھی یہ سوچنا قبل از وقت ہو گا کہ پاکستان کے سیاستدان معاہدے کے مطابق صدر مشرف کا مواخذہ کریں گے۔

نواز شریف اور آصف زرداری
’چاہے مواخذے کا نتیجہ کچھ بھی ہو فائدہ نواز شریف کو ہی ہو گا‘

اخبار یہ بھی لکھتا ہے کہ اگر صدر مشرف چلے بھی جاتے ہیں تو پھر کیا ہو گا۔ پارلیمان کو نیا صدر منتخب کرنا پڑے گا۔ پی پی پی کی پارلیمان میں زیادہ نشستیں ہیں اور آصف زرداری کئی مرتبہ یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ اس عہدے کے خواہاں ہیں۔ تاہم اخبار لکھتا ہے کہ یہ بہت مشکل لگتا ہے کہ نواز شریف آصف زرداری کے صدر بننے پر رضامندی ظاہر کریں۔

اخبار فائنانشیئل ٹائمزز کی سرخی ہے ’مشرف مواخذے کے خلاف ڈٹ گئے‘۔ اخبار کے مطابق صدر مشرف اپنے نو سالہ دورِ اقتدار میں پہلے بھی کئی مرتبہ سیاسی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے حریفوں کو غلط ثابت کر سکے ہیں۔

اخبار کے مطابق جمعہ کو بھی ان کے ایک سینیئر مشیر نے کہا ہے کہ صدر لڑائی کے بغیر میدان نہیں چھوڑیں گے۔

اخبار کے مطابق صدر مشرف نے رات گئے تک اپنے سیاسی حلیفوں اور قانونی مشیروں سے مشورے کیے ہیں۔

اخبار دی گارڈیئن کے مطابق مواخذے کی خبر کا مطلب پاکستان میں مزید سیاسی عدم استحکام ہے۔۔۔ کم از کم تھوڑے عرصے کے لیے تو ضرور۔

اخبار لکھتا ہے کہ اگرچہ آصف علی زرداری اور نواز شریف میں بالآخر معاہدہ ہو گیا ہے لیکن یہ ایک عارضی مفادات کا اتفاق ہے نا کہ یہ ایک نئی یکجہتی ہے۔

تاہم اخبار کہتا ہے کہ صدر مشرف نے اولمپک کھیلوں میں شرکت کے لیے چین نہ جانے کے فیصلے سے یہ ضرور تاثر دیا ہے کہ وہ اس دھمکی کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

آخر میں اخبار کہتا ہے کہ حالیے بحران کا نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو یہ نواز شریف ہی ہوں گے جو اس کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔

اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے امریکی وزارت خارجہ کے افغانستان اور پاکستان پر ایک سابق تجزیہ نگار مارون وینبام کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان میں حکمران جماعتی اتحاد کی طرف سے صدر پرویز مشرف کے خلاف مجوزہ مواخذے کے تناظر میں ’اگر فوج نے مداخلت کی تو پھر ملک میں دہشتگردی کے خلاف کیے جانیوالےاقدامات کا خطرناک حد تک رخ مڑ جائے گا۔‘

لیکن اسی تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں قیادت کی تبدیلی کیلیے پہلے ہی تیار ہے اورمشرف کی ذات سے باہر پاکستان کی متخب حکومت اور سیاسی قیادت تعلقات رکھے ہوئے ہے۔

ادھر امریکہ کے با اثر اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے لکھا ہے کہ ’اگرچہ صدر مشرف عالمی براردری کی طرف سرے خطے میں ایک مدبر رہنما اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک اہم ترین اور قابل بھروسہ حلیف مانے جاتے ہیں جو انکی شخصیت کے بارے میں ایسا تصور ان کے گيار سمتبر دو ہزار ایک کے بعد امریکہ کی ساتھ اتحادی بننے کے بعد ابھر کر آیا تھا لیکن ان کی دہشتگردی کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ وفاداری اور خلوص پر شک بھی کیا جانے لگا ہے۔‘

’نیویارک ٹائمز‘ نے جنرل پرویز مشرف کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی حمایت ہونے کی طرف عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ مہینے ایک گولف کلب میں جنرل پرویز مشرف اور جنرل اشفاق کیانی کے درمیان ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں رہنماؤں نے جنرل مشرف کو آنیوالے دنوں میں پیدا ہونیوالی مشکلات پر تبادلہ خیال کیا تھا-

جبکہ اخبار ’لاس اینجلز ٹائمز‘ نے اپنی رپورٹ میں ایک جگہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ایک ترجمان لو فنٹر کے حوالے سے کہا ہے ’صدر مشرف کے خلاف مواخذہ پاکستان کا اندورنی معاملہ ہے تاہم امریکہ اسے پاکستانی آئین و قانون کی حمکرانی کے تناظر میں طے ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔‘

صدر کا مواخذہ
’تین سو حامی ہیں مگر ووٹ 315ملیں گے‘
پرویز مشرف(فائل فوٹو)کون کیا کر رہا ہے؟
مواخذہ کے حامیوں، مخالفین کی تیاریاں
آئینِ پاکستانآئین کیا کہتا ہے
صدر کا مواخذہ کن وجوہات پر ہو سکتا ہے
پرویز مشرف(فائل فوٹو)برخاستگی کی تاریخ
جناح کے علاوہ سب غیر معمولی حالات میں گئے
نواز شریف اور آصف علی زرداریمواخذہ کارروائی
حکمران اتحاد: پریس کانفرنس کی جھلکیاں
محمد ندیملوگوں کی رائے
مواخذے کے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں
زداری ہاؤسبیرونی منظر
سیاسی مذاکرات کے دوران باہر کیا ہوتا رہا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد