BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 August, 2008, 19:26 GMT 00:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’معرکے کااصل ہیروجمہوری عمل‘

ایک متنازعہ صدر کو ہٹانے کے لیے جمہوری عمل کا سہارا لینے کے فیصلے نے پاکستان کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا

سوموار اٹھارہ اگست دو ہزار آٹھ یقیناً صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی زندگی کا تلخ ترین دن شمار ہوگا۔ ہفتے بھر سے کیا سیاستدان اور کیا سٹے باز، ہر کوئی اسی بحث میں الجھا نظر آتا تھا کہ ایک نو سالہ پرانے آمر حکمران کو گھر کیسے بھیجا جائے۔

یہ بحث آخرکار مسٹر پرویز مشرف کے استعفٰی کے ساتھ ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔ لیکن ایک سابقہ فوجی حکمران کے غیر مشروط استعفٰی نے کئی نئی بحثوں کو جنم دیا ہے جو آنے والے دنوں اور ہفتوں میں میڈیا کی زینت بنی رہیں گی۔ مستقبل کی ان بحثوں کے چیدہ نقاط میں یقیناً معزول ججوں کی بحالی کا معاملہ، اگلے صدر کا چناؤ، مسلم لیگ نواز کی وفاقی کابینہ میں واپسی اور ایسے بہت سے اور امور شامل ہونگے جن کا تعلق ماضی سے زیادہ مستقبل سے ہے۔

لیکن اگر پاکستانیوں کو مستقبل کے لیے خیر کی توقع کرنی ہے تو ضروری ہے کہ وہ پچھلے چند مہینوں میں ہونے والی سیاست کو پرکھیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ جو ہوا وہ کیوں ہوا۔

 عوامی رد عمل سے ذرا ہٹ کر دیکھیں تو پاکستان میں اقتدار کے سبھی ستون اس امر پر خوش نظر آئے کہ ایک انتہائی مشکل مرحلہ کسی مار دھاڑ یا عدم استحکام کے ایک لامتناہی سلسلے کو جنم دیے بغیر ہی طے پایا۔

انتخابات جیتنے کے چھ مہینے بعد تک پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری اپنے حلیفوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ صدر مشرف کو ہٹانے کی بجائے انہیں ایوان صدارت میں رکھنا ہی دراصل اتحادیوں کے مفاد میں ہے۔ ان کی منطق کے مطابق ایک سیاسی طور پر ہارا ہوا صدر ان کے لیے اتنا بڑا خطرہ نہیں ہو سکتا جتنا کہ موجودہ صورتحال میں ایک تازہ منتخب شدہ صدر۔

اس منطق کے پس پردہ آصف زرداری اور پی پی پی کی چند بنیادی سیاسی ضرورتیں اور مجبوریاں تھیں۔

پہلی یہ مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں نواز شریف کے مقابلے میں آصف علی زرداری اپنے آپ کو ایک ذمہ دار سیاسی رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے جو ریاست کے کسی بھی ستون سے ٹکر لینے کا خواہاں نہ ہو۔ اسی لیے نہ صرف وہ صدر کو ہٹانے کے معاملے پر مبہم رہے بلکہ بعد از ایمرجنسی ججوں کے بارے میں بھی انہوں نے کبھی کوئی سخت بیان نہ دیا۔

دوسرے آصف علی زرداری امریکی حکومت کو واضح طور پر کچھ بھی کہے بغیر یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی خود ساختہ جنگ میں انہیں امریکہ کے وضع کردہ اصولوں سے نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر اختلاف ہے۔ اسی لیے انہوں نے صدر مشرف کی بنیادی پالیسی کو بدلے بغیر اس پر عملدرآمد میں صوبہ سرحد کی حکومت کو بھی شامل کیا۔ یوں ایک طرف تو صدر مشرف امریکیوں کو فخر سے بتاتے رہے کہ ان کی بنائی ہوئی پالیسی ہی چلے گی اور دوسری طرف صوبائی حکومت کی شمولیت سے اس پالیسی پر عملدرآمد کو ایک نئی توانائی حاصل ہوئی۔

’یہ ثابت ہوگیا کہ جمہوریت اور عوامی سیاست میں بڑی جان ہوتی ہے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی تیسری اور شاید سب سے اہم مجبوری صدر مشرف کا متبادل تلاش کرنا تھا۔ پی پی پی فاروق احمد خان لغاری کی ڈسی ہوئی جماعت ہے اور اب جب کہ بینظیر بھٹو بھی نہیں ہیں تو پارٹی کے رہنما اس معاملے میں کسی پر بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ پارٹی قیادت کی خواہش تھی کہ پہلے آئین میں ترامیم کر کے صدارتی اختیارات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے اور پھر نئے صدر کو چنا جائے۔

لگ بھگ چھ ماہ کی مبہم پالیسیوں سے پی پی پی اور آصف علی زرداری نے کیا کمایا؟ گو پاکستان کے کئی حلقوں میں تاثر یہ ہے کہ صدر مشرف کا استفعٰی مسلم لیگ نواز کی جانب سے مسلسل دباؤ کا نتیجہ ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا بعید از حقیقت ہو گا کہ اس کھیل میں ایک حلیف جیتا اور دوسرے نے مات کھائی۔

صدر مشرف کے استعفٰی کی خبر کے فوراً بعد جو عوامی رد عمل سامنے آیا اس میں کسی نے اس پیش رفت کا سہرا مسلم لیگ نواز کے سر نہ باندھا۔ تقریباً ہر کسی نے یہی امید ظاہر کی کہ اب کاروبار مملکت شاید آگے چلے۔ اور اگر عوامی رد عمل سے ذرا ہٹ کر دیکھیں تو پاکستان میں اقتدار کے سبھی ستون اس امر پر خوش نظر آئے کہ ایک انتہائی مشکل مرحلہ کسی مار دھاڑ یا عدم استحکام کے ایک لامتناہی سلسلے کو جنم دیے بغیر ہی طے پایا۔

اس صورتحال میں سب سے زیادہ سکون شاید پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے محسوس کیا ہو گا جو کئی ماہ سے خود کو صدر مشرف سے متعلق تمام تنازعات سے دور رکھنے کو کوششوں سے نڈھال نظر آنے لگے تھے۔

جنرل کیانی فی الحال فوج کو سیاست سے دور رکھنے کے عزم پر قائم نظر آتے ہیں۔ اگر مخلوط حکومت کو صدر مشرف کے خلاف مواخذے کے مکمل عمل میں سے گزرنا پڑتا تو عین ممکن تھا کہ ایسے حالات بن جاتے جو ان کے عزم کو امتحان میں ڈال دیتے۔ اب وہ کم از کم کچھ عرصہ چین کی نیند سو سکتے ہیں۔

 یہ پاکستان کی بہت بڑی بدقسمتی ہو گی اگر صدر مشرف کے اقتدار کے خاتمے کو دونوں حلیف اپنی اپنی سیاسی فتح سمجھ کر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگ جائیں۔ فی الوقت اس معرکے کا اصل ہیرو جمہوری عمل ہے۔ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کو یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے اس ہیرو کو اپنے جوہر دکھانے کا بھرپور موقع دیا۔

عدلیہ کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ اب یقیناً پاکستان میں کچھ عرصہ یہ بحث رہے گی کہ مسٹر مشرف کا احتساب ہو یا نہیں۔ شاید یہ ایک لایعنی بحث ہو کیونکہ محفوظ رستے کا وعدہ لیے بغیر کوئی بھی حکمران اقتدار ایسے نہیں چھوڑتا جیسے صدر مشرف نے چھوڑا۔

لیکن فرض کر لیجیے کہ استعفٰی سے پہلے سارا معاملہ صدر کے احتساب پر پھنس جاتا۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے مستقبل کے خوف سے گھبرا کر یا محض کھیل بگاڑنے کے لیے حکومت کو چلتا کرتے۔ ایسے میں پاکستان کی متنازعہ عدلیہ خود کو کس صورتحال میں پاتی؟ کیا پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کو اپنے مستقبل کے لیے سیاستدانوں سے سودے بازی نہیں کرنی پڑتی؟ مسٹر مشرف کے لیے محفوظ رستے کو مسئلہ نہ بنا کر حکمران اتحاد نے بڑی دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔

قصہ مختصر، پچھلے چھ مہینوں کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جمہوریت اور عوامی سیاست میں بڑی جان ہوتی ہے۔ ایک متنازعہ صدر کو ہٹانے کے لیے جمہوری عمل کا سہارا لینے کے فیصلے نے پاکستان کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا۔ اب اگر کوئی سابق صدر کے احتساب کی بات کرے بھی تو اس کو سنجیدگی سے لینا شاید کسی کے مفاد میں بھی نہ ہو۔

یہاں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ صدر مشرف کو مسٹر مشرف بنانے کے عمل میں مسلم لیگ نواز نے نہایت دانشمندی سے کام لیا اور کئی مرتبہ حالات کو ایک گہری کھائی کے کنارے سے واپس لے آئے۔ دوسری طرف پی پی پی نے بھی انتہائی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کی ہر اس تجویز اور مطالبے کو ٹھکرایا جس سے صورتحال آئینی عہدوں میں تصادم کی جانب بڑھ سکتی تھی۔

اب اگر نئے صدر کے چناؤ اور معزول ججوں کی بحالی کے معاملات پر بھی ایسی ہی سیاسی دانشمندی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا تو یہ عین ممکن ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل حقیقی معنوں میں جڑیں پکڑنا شروع ہو جائے۔

یہ پاکستان کی بہت بڑی بدقسمتی ہو گی اگر صدر مشرف کے اقتدار کے خاتمے کو دونوں حلیف اپنی اپنی سیاسی فتح سمجھ کر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگ جائیں۔ فی الوقت اس معرکے کا اصل ہیرو جمہوری عمل ہے۔ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کو یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے اس ہیرو کو اپنے جوہر دکھانے کا بھرپور موقع دیا۔

پرویز مشرفصدر کاخطاب
آخری خطاب میں مشرف نے کیا نہیں کہا
صدر مشرف مستعفی، لوگ کیا کہتے ہیں؟عوامی رد عمل
صدر مشرف کے استعفی پر لوگ کیا کہتے ہیں؟
صدر پرویز مشرفمیرے عزیز ہم وطنو
صدر پرویز مشرف کے قوم سے خطاب کا متن
جنرل مشرف آگرہ میںمشرف ٹائم لائن
صدر (ر) جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار
آمروں کا عالمی کلب
مشرف کی آمریت اور ان کے عالمی پیش رو
مشرفخوشی بھی غم بھی
استعفے پر خوشی ہے اور غمی کا عالم بھی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد