BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 August, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
استعفیٰ: کہیں خوشی کہیں غم

 پرویز مشرف
کچھ جگہ سڑکوں پر لوگ جشن مٹنا رہے ہیں
آخرکار پیر کی دوپہر کو وہی ہوا اور صدر پرویز مشرف نے نہ چاہتے ہوئے بھی استعفیٰ دے دیا اور ملک میں ایک بے چینی اور غیر یقینی والی صورتحال اور انتظار بھی ختم ہوا۔

ایک بج کر گیارہ منٹ پر جب تلاوت شروع ہوئی اور تلاوت کے لیے جس آیت کا انتخاب کیا گیا وہ بھی حالات سے موافق لگ رہی تھی۔


آیت کا ترجمہ تھا ’وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کی بھلائی متقین کے ہی لیے ہے۔۔سو جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھلائی ہے اور جو کوئی برائی لے کر آئے تو برائیاں کرنے والے کو ویسا ہی بدلہ ملے گا۔۔ جیسے وہ عمل کرتے تھے‘۔

نیا سوٹ اور ٹائی پہنے صدر کے لہجے میں گھن گرج تھی لیکن دو سے زیادہ مواقع پر جہاں ان کی زبان لڑکھڑائی وہاں ان کے چہرے پر تناؤ اور آنکھوں میں نمی دکھائی دی۔

ایک گھنٹے کی تقریر میں انہوں نے نواز شریف اور آضف علی زرداری کا نام لیے بنا ان کے خلاف تنقید کی۔ تقریر کی شروعات سے تو لگا کہ وہ روانی سے اور ٹو دی پوائنٹ بول رہے ہیں لیکن آخر میں ان کے جملے بے ربط ہو گئے۔

تقریر کے دوران کئی مواقع پر صدر پرویز مشرف بولتے تو رہے لیکن ان کی گردن جھکی ہوئی اور نظریں نیچے تھیں۔

یہ پہلا موقع تھا جہاں ان کے ارد گرد ملٹری سیکریٹری یا محافظ کمانڈوز کو ٹی وی چینلز نے نہیں دکھایا اور نہ ہی صدر کی آمد اور روانگی کے شاٹ دکھائے گئے۔ لیکن صدر نے اپنے استعفے کا اعلان مکمل پروٹوکول کے ساتھ کیا۔

آخری کلمات ادا کرتے ہوئے صدر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ جہاں جہاں ان کا لہجہ دھیمہ ہوا وہاں آواز بھی بھرا گئی۔

آخری چند جملے انہوں نے کچھ وقفے وقفے سے ادا کیے لیکن جاتے جاتے جہاں ملک و قوم کے لیے جان دینے کی بات کی وہاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’پاکستان کا خدا حافظ‘۔

صدر نے روسٹرم چھوڑتے وقت دونوں بازو بلند کر کے اپنی تقریر ختم کی لیکن اس دوران ان کے چہرے کے تاثرات ان کے مُکوں کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔

جنرل (ر) پرویز مشرف کے مستعفی ہونے پر اکثر مقامات پر خوشیاں منانے کی اطلاعات ہیں لیکن ان کے حامی سیاسی حلقوں میں افسردگی اور غمی کا عالم بھی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد