BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 August, 2008, 08:48 GMT 13:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’محفوظ راستہ، آئین شکنی کو دوام‘
احسن اقبال چارج شیٹ تیار کرنے والی کمیٹی میں شامل تھے
پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ صدر کے مواخذے کے لیے تحریک پیش کرنے کے تمام تقاضے پورے کر لیے گئے ہیں اور منگل کے لگ بھگ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو تحریک کا نوٹس دے دیا جائے گا۔

بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں احسن اقبال نے کہا کہ صدر وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور چاروں صوبوں کی طرف سے صدر کے خلاف قراردادیں پیش ہونے کے بعد پرویز مشرف کے پاس صدر رہنے کا کوئی آئینی، قانونی، اخلاقی اور سیاسی باقی نہیں رہ گیا۔

صدر کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی خاص معنی نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک مضبوط سول سوسائٹی معرض وجود میں آ گئی ہے، میڈیا آزاد ہے اور عدلیہ بھی آزاد ہونے کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا لہذا صدر مشرف کی ذات کی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر نے چاروں مرتبہ جب اپنے آپ کو صدر بنایا آئین کو مسخ کیا۔

پہلی مرتبہ منتخب صدر رفیق تارڑ کو صدرات سے فارغ کیا، دوسرے مرتبہ جعلی ریفرنڈم کرایا، تیسری مرتبہ اعتماد کا ووٹ لیا جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں اور کہا کہ اس صدر کا انتخاب تصور کیا جائے گا اور چوتھی مرتیہ پی سی او لگا کر وردی کی طاقت پر ایک جاتی ہوئی اسمبلی سے اعتماد کو ووٹ لے کر اسے صدارتی انتخاب بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ صدر کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطلب ہے کہ آئینی شکنی کی روایت کو تقویت پہنچانا۔ پاکستان اب مزید آئین شکنی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف عدلیہ کی بحالی کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور سیاسی بحران کا باعث اور ان کے چلے جانے ہی سے ملک میں سیاسی استحکام آسکتا ہے اور حکومت ملک کے اقتصادی مسائل پر توجہ دے سکتی ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ ججوں کی بحالی کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ معاملہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا صدر مشرف کے مواخذے کا۔

انہوں نے کہا کہ سات اگست کے مشترکہ اعلامیہ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جج اعلان مری کے مطابق ہی بحال کیئے جائیں گے نہ کہ آئینی پیکج کے تحت۔

اسی بارے میں
صدر، مواخذہ اور افواہیں
16 August, 2008 | پاکستان
عدلیہ کی بحالی پر اتفاق
09 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد