BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 August, 2008, 15:08 GMT 20:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر، مواخذہ اور افواہیں

صدر مشرف
صدر مشرف نے ہمیشہ ااس بات پر زور دیا کہ ان کا مواخذہ نہیں ہوگا
اسلام آباد میں یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر مون سون کے ساتھ ساتھ افواہوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ کیا صدر مشرف نے عہدہ چھوڑ دیا؟ کیا انہیں عہدے سے اتار دیا گیا؟

بطور ایک فوجی حکمران پاکستان پر ایک دہائی تک حکومت کرنے والے صدر مشرف پہلے کبھی اتنے کمزور نہیں رہے۔ان کے سیاسی حریفوں نے اپنے تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ان کے خلاف مورچہ بنایا اور ان کے مواخذے کی چارج شیٹ تیار کر لی۔

صدر مشرف نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ان کا مواخذہ نہیں ہوگا لیکن ان کے حامی ان سے دامن چُھڑاتے نظر آرہے ہیں۔ایسے حالات میں ان کا استعفی ہی ایک واحد راستہ نظر آتا ہے۔

صدر کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے بارے میں بند دروازوں کے پیچھے بات ہوئی ہےاور اگر یہ مذاکرات کامیاب رہے تو وہ کسی بھی وقت استعفی دے سکتے ہیں۔یا پھر وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دینے کے لیے پارلیمان میں آسکتے ہیں۔

اس تمام صورتِ حال میں سب سے ’انقلانی‘ اقدام یہ ہو سکتا ہے کہ وہ استعفی دینے سے پہلے پارلیمان کو تحلیل کر کےحکومت کو برخاست کر دیں۔لیکن صدر مشرف جیسے سیاسی جواری کے لیے اس عمل کو جائز قرار دینا خاصا مشکل ہوگا کیونکہ ان کے اس اقدام سے مصالحت اور اتحاد کے ان کے نعرے بےکار لگیں گے۔

لیکن ایسا نہیں لگتا کہ صدر مشرف کے سیاسی حریف ’معاف کرنے یا بھول جانے‘ کے موڈ میں ہیں۔کیونکہ نواز شریف نے ان تجاویز کو ماننے سے انکار کر دیا کہ صدر مشرف کو محفوظ راہ فراہم کر دی جائے اور انہیں معافی دے دی جائے۔

مسٹر شریف نے لاہور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ کیا ایسے انسان کو محفوظ راستہ دیا جانا چاہیے جس نے پاکستان کا یہ حال کیا ہو‘۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے قانون اور آئین کی خلاف ورزی کر کے اور پاکستان کے اقتدارِ اعلی کو فروخت کر کے وہ محفوظ راستہ چاہتے ہیں‘۔

نواز اور زرداری فائل فولٹو
مشرف کےسیاسی حریفوں نے اپنے تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ان کے خلاف مورچہ بنایا لیا

نواز شریف کے اس موقف سے ایسے معاہدے تک پہنچنے میں پیچیدگی آ سکتی ہے جس سے تمام فریق مطمئین ہوں ۔

یاد رہے کہ مخلوط حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں میں سب سے بڑا اتقاق صدر مشرف سے چھٹکارا حاصل کرنا تھااور ان کے جانے کے بعد خود ان جماعتوں میں اختلافات ہو سکتے ہیں اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ پرویز مشرف کے بغیر پاکستان زیادہ مضبوط ہوجائےگااور یہی سب سے زیادہ تشویشناک بات ہے۔

حالیہ دنوں میں صدر مشرف صرف ایک ہی مرتبہ کسی عوامی تقریب میں شریک ہوئے اور وہ بھی یومِ آزادی کی تقریب میں جہاں انہوں نے کمانڈر ان چیف کے انداز میں سلام کیا تقریب میں وہ سگار کے کش لے رہے تھےجبکہ کسی سرکاری عمارت میں سیگریٹ نوشی غیر قانونی ہے۔

جس وقت یہ تقریب جاری تھی صدارتی محل کے باہر لوگوں کا ایک چھوٹا سا ہجوم’گو مشرف گو‘کے نعرے لگا رہا تھا لیکن ان نعروں کی گونج صدر تک نہیں پہنچ رہی تھی ’جن کا ابھی تک یہ خیال ہے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا‘۔

پرویز الٰہیمواخذے کا محاصرہ
’اتحادی اپنے ہی جال میں پھنس جائیں گے‘
ایس ایم ظفروزرائے قانون کی رائے
’مواخذہ قرارداد عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکتی‘
 مشرفالزامات کی تیاری
مشرف مواخذہ: الزامات کی تیاری شروع
پرویز الٰہیبھرپور دفاع کا عزم
’پیچھے ہٹنے دیں گے، نہ ہی استعفیْ دینے دیں گے‘
مشرف’بغاوت کا مقدمہ‘
سابق سفیرصدر پر بغاوت کے مقدمے کے حامی
جشنِ آزادیتقریبات پر تنازعہ
جشنِ آزادی، حکومت اور ایوانِ صدر میں ٹھن گئی
اسی بارے میں
صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل
14 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد