صدر، مواخذہ اور افواہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر مون سون کے ساتھ ساتھ افواہوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ کیا صدر مشرف نے عہدہ چھوڑ دیا؟ کیا انہیں عہدے سے اتار دیا گیا؟ بطور ایک فوجی حکمران پاکستان پر ایک دہائی تک حکومت کرنے والے صدر مشرف پہلے کبھی اتنے کمزور نہیں رہے۔ان کے سیاسی حریفوں نے اپنے تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ان کے خلاف مورچہ بنایا اور ان کے مواخذے کی چارج شیٹ تیار کر لی۔ صدر مشرف نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ان کا مواخذہ نہیں ہوگا لیکن ان کے حامی ان سے دامن چُھڑاتے نظر آرہے ہیں۔ایسے حالات میں ان کا استعفی ہی ایک واحد راستہ نظر آتا ہے۔ صدر کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے بارے میں بند دروازوں کے پیچھے بات ہوئی ہےاور اگر یہ مذاکرات کامیاب رہے تو وہ کسی بھی وقت استعفی دے سکتے ہیں۔یا پھر وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دینے کے لیے پارلیمان میں آسکتے ہیں۔ اس تمام صورتِ حال میں سب سے ’انقلانی‘ اقدام یہ ہو سکتا ہے کہ وہ استعفی دینے سے پہلے پارلیمان کو تحلیل کر کےحکومت کو برخاست کر دیں۔لیکن صدر مشرف جیسے سیاسی جواری کے لیے اس عمل کو جائز قرار دینا خاصا مشکل ہوگا کیونکہ ان کے اس اقدام سے مصالحت اور اتحاد کے ان کے نعرے بےکار لگیں گے۔ لیکن ایسا نہیں لگتا کہ صدر مشرف کے سیاسی حریف ’معاف کرنے یا بھول جانے‘ کے موڈ میں ہیں۔کیونکہ نواز شریف نے ان تجاویز کو ماننے سے انکار کر دیا کہ صدر مشرف کو محفوظ راہ فراہم کر دی جائے اور انہیں معافی دے دی جائے۔ مسٹر شریف نے لاہور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ کیا ایسے انسان کو محفوظ راستہ دیا جانا چاہیے جس نے پاکستان کا یہ حال کیا ہو‘۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے قانون اور آئین کی خلاف ورزی کر کے اور پاکستان کے اقتدارِ اعلی کو فروخت کر کے وہ محفوظ راستہ چاہتے ہیں‘۔
نواز شریف کے اس موقف سے ایسے معاہدے تک پہنچنے میں پیچیدگی آ سکتی ہے جس سے تمام فریق مطمئین ہوں ۔ یاد رہے کہ مخلوط حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں میں سب سے بڑا اتقاق صدر مشرف سے چھٹکارا حاصل کرنا تھااور ان کے جانے کے بعد خود ان جماعتوں میں اختلافات ہو سکتے ہیں اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ پرویز مشرف کے بغیر پاکستان زیادہ مضبوط ہوجائےگااور یہی سب سے زیادہ تشویشناک بات ہے۔ حالیہ دنوں میں صدر مشرف صرف ایک ہی مرتبہ کسی عوامی تقریب میں شریک ہوئے اور وہ بھی یومِ آزادی کی تقریب میں جہاں انہوں نے کمانڈر ان چیف کے انداز میں سلام کیا تقریب میں وہ سگار کے کش لے رہے تھےجبکہ کسی سرکاری عمارت میں سیگریٹ نوشی غیر قانونی ہے۔ جس وقت یہ تقریب جاری تھی صدارتی محل کے باہر لوگوں کا ایک چھوٹا سا ہجوم’گو مشرف گو‘کے نعرے لگا رہا تھا لیکن ان نعروں کی گونج صدر تک نہیں پہنچ رہی تھی ’جن کا ابھی تک یہ خیال ہے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا‘۔ |
اسی بارے میں ’مشرف پر بغاوت کا مقدمہ چلائیں‘12 August, 2008 | پاکستان جشنِ آزادی کی تقریبات پر تنازعہ 12 August, 2008 | پاکستان پنجاب اور سرحد کا عدم اعتماد12 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل14 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||