اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
پاکستان کے اٹھائیس سابق سفیروں نے ایک بیان میں صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے۔ یہ بیان ایک سابق سفیر آصف ایزدی نے منگل کو جاری کیا ہے جس میں اکرم ذکی، ریاض کھوکھر اور شمشاد احمد سمیت بعض ایسے سینئر بیورو کریٹس کے نام بھی شامل ہیں جو صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی کارروائی جلد سے جلد شروع کی جائے۔ ان کے مطابق صدر پرویز مشرف کے کامیاب مواخذے سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔ سابق سفیروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت صدر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کی جائے۔ آئین کی اس شق کے تحت آئین شکنی پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جاتا ہے اور اس کی سزا موت ہے۔  | | | بیان جاری کرنے والوں میں اکرم ذکی سمیت سینئر بیورو کریٹ شامل ہیں |
بیان میں سفیروں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ معزول ججوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کی رہائی کا عمل مواخذے کی کارروائی کے ساتھ ساتھ شروع کیا جائے۔ یہ بیان جاری کرنے والے اٹھائیس سابق سفیروں میں سابق سیکرٹری جنرل اور سینیٹر اکرم ذکی، سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد، سابق سیکرٹری خارجہ ریاض ایچ کھوکھر، ڈاکٹر ایس ایم قریشی، ڈاکٹر مقبول بھٹی، توقیر حسین، کے کے غوری، ایس عظمت حسن، امین جان نعیم اور مشتاق مہر بھی شامل ہیں۔ جبکہ دیگر ناموں میں ایم طیب صدیقی، کرم الہیٰ، افضل اکبر خان، قاضی ہمایوں، آصف ایزدی، طارق فاطمی، ایس شفقت کاکا خیل، مظہر قیوم، سلطان حیات خان، سلیم نواز گنڈاپور، شیر افگن خان، اقبال احمد خان، اسلم رضوی، کامران نیازی، جاوید حفیظ، رشید سلیم خان، نذر عباس اور ایاز وزیر شامل ہیں۔ |