BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 August, 2008, 14:16 GMT 19:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب اور سرحد کا عدم اعتماد

 سرحد اسمبلی
سرحد اسمبلی ’گو مشرف گو‘ کے نعروں سے گونجتی رہی
سرحد اسمبلی میں صدر پرویز مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی ہے جبکہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پہلے روز کے ایجنڈے میں ایسی کوئی قرارداد شامل نہیں۔

گزشتہ روز پنجاب اسمبلی نے بھاری اکثریت سے صدر پرویز مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور کرتے ہوئے ان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

توقع ہے کہ آئندہ جمعہ کو شروع ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی صدر پرویز مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے گی۔

منگل کو سرحد اسمبلی سے جو قرارداد منظور ہوئی اس میں
بھی صدر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں یا فوری طورپر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

سرحد کا اسمبلی کا اجلاس سپیکر کرامت اللہ خان چغرمٹی کی سربراہی میں شروع ہوا تو ایک سو چوبیس کے ایوان میں ایک سو گیارہ اراکین موجود تھے جن میں سے ایک سو سات ممبران نے قرارداد کی حمایت میں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے چار اراکین نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تیرہ اراکین اسمبلی کارروائی سے غیر حاضر رہے۔

خواتین اراکین کی چھینا جھپٹی
اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن شازیہ اورنگرزیب نے صدر مشرف کا ایک پوسٹر ایوان کے اندر پھاڑ ڈالا اور اس دوران شازیہ اور مسلم لیگ (ق) کی رکن اسمبلی نگہت اورکزئی کے درمیان چھینا جھپٹی بھی ہوئی۔

قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والوں میں سابقہ دور میں صدر مشرف کے حمایتی پیپلز پارٹی شیر پاؤ گروپ کے ارکان اور آزاد ارکان بھی شامل تھے۔

اس سے قبل ایوان کی کاروائی جب شروع ہوئی تو عوامی نشینل پارٹی کے پارلیمانی رہنما بشیر احمد بلور، ایم ایم اے کے اکرم خان درانی، مسلم لیگ (ن) کے پیر صابر شاہ اور پاکستان پیپلز پارٹی پالیمنٹرینز کے رحیم داد خان نے کھڑے ہوکر چار ایک جیسی قراردادیں پیش کیں جن میں صدر (ر) جنرل پرویز مشرف کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے یا فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔

قراردادوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ صدر مشرف نے آئین پاکستان سے روگردانی کی، دو بار آئین معطل کیا اور ملک کو اقتصادی بدحالی سے دوچار کیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر مشرف کی پالیسوں کی وجہ سے صوبوں میں تناؤ پیدا ہوا ،31 دسمبر 2004 کو وردی اتارنے کے وعدے کی خلاف ورزی کی اور فاٹا اور سرحد میں بےگناہ لوگ مارے گئے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ صدر مشرف اپنے انتخابی حلقے سے اعتماد کا ووٹ لیں یا آئین کے شق 44 (3) کے تحت فوری طور پر مستعفی ہوجائیں ، بصورت دیگر اس کی ناکامی کی صورت میں پارلیمنٹ سے سفارش کی جاتی ہے کہ وہ آئین کی شق 47 کے تحت مواخذے کا نوٹس دے۔

قرراداد کی حمایت میں اراکین اسمبلی نے کھڑے ہوکر ووٹ دیا جبکہ اس دوران وہ گو مشرف گو کے نعرے بھی لگاتے رہے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن شازیہ اورنگرزیب نے صدر مشرف کا ایک پوسٹر ایوان کے اندر پھاڑ ڈالا اور اس دوران شازیہ اور مسلم لیگ (ق) کی رکن اسمبلی نگہت اورکزئی کے درمیان چھینا جھپٹی بھی ہوئی۔

ایم کیو ایم کا موقف کیا ہے
جب متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما سردار احمد سے پوچھا گیا کہ اگر صدر مشرف کے خلاف تحریک پیش کی گئی تو کیا وہ اس کی مخالفت کریں گے یا حمایت تو ان کا کہنا تھا کہ قیاس آرائیوں پر بات نہیں کی جاسکتی جب ایسا ہوگا تب فیصلہ کیا جائے گا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس کے پہلے روز کے ایجنڈہ میں صدر پرویز مشرف پر عدم اعتماد اور اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیارات کے خلاف قرار دادیں شامل نہیں کی گئیں۔

اپوزیشن جماعتوں نے صدر کے دفاع کا اعلان کیا مگر ایم کیو ایم اپنا موقف واضح نہ کرسکی۔ تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ متحدہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لے گی۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رکیوزیشن پر گورنر سندھ نے یہ اجلاس طلب کیا تھا ۔اجلاس سے قبل یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ صدر کے مواخذے کی تحریک آج پیش کی جائے گی۔

قائد حزب اختلاف جام مدد علی نے اجلاس سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اپوزیشن جماعتیں صدر مشرف کا مکمل دفاع کریں گی کیونکہ یہ وہ ہی جماعتیں ہیں جو انہیں صدر منتخب کرچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی قیاس آرائیاں اور پروپگنڈہ غلط ہے، اپوزیشن کے تمام اراکین متفق ہیں، اس وقت ان کے اٹھارہ ممبران ہیں جن میں سے ارباب غلام رحیم باہر ہیں اور وہ بھی ان کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں۔

مسلم لیگ ق کے فارورڈ بلاک کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ دو ممبران عابد سندرانی اور غالب ڈومکی ابتدا سے ہی پیپلز پارٹی کی جانب جا چکے ہیں ان کا اپوزیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بعد میں قائد حزب اختلاف جام مدد علی نے متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کرکے انہیں حمایت کے لیے کہا۔

تاہم متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے انہیں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

متحدہ کے پارلیمانی رہنما سردار احمد کا کہنا تھا کہ منگل کے اجلاس کے ایجنڈہ میں ایسی کوئی قابل اعتراٰض بات نہیں اس لیے وہ اجلاس میں شرکت کے لیے جارہے ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اگر صدر مشرف کے خلاف آوٹ آف ٹرن تحریک پیش کی گئی تو کیا اس کی مخالفت کریں گے یا حمایت؟ تو ان کا کہنا تھا کہ قیاس آرائیوں پر بات نہیں کی جاسکتی جب ایسا ہوگا تب فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
مواخذے تک اجلاس جاری
11 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد