صدر کے پاس ایک دن کا وقت: قریشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو اگلے دو تین دن تک مستعفی ہو جانا چاہیے یا پھر انہیں مواخذے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ سینیچر کے روز ملتان میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر مشرف کے لیے اب فیصلہ کرنے کے لیے ایک دن باقی رہ گیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر مشرف کے مستعفی ہوجانے کی صورت میں مواخذے کی تحریک پیش نہیں کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کے پاس اب وقت بہت کم ہے۔ مستعفی ہوجانے کی صورت میں صدر کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے بھی وہی جواب دیا کہ اس کا فیصلہ حکومت میں شامل جماعتوں کے سربراہان کریں گے۔ اس سوال کے جواب میں کہ پرویز مشرف کے صدر کے عہدے سے ہٹ جانے کے بعد کس کو صدر بنایا جائے گا شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کسی خواہش کا اظہار میاں نواز شریف کی طرف سے کیا گیا تو اس کا احترام کیا جائے گا۔ صدر مشرف کے مواخذے کے لیے تیار کی گئی چارج شیٹ میں حکام کے مطابق بہت بغاوت سمیت بہت سے سنگین الزامات شامل کیئے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈیمیٹ کے مطابق صوبائی اسمبلیوں میں صدر مشرف کے خلاف پیش کی جانے والی قرار دادوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حمایت مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق صدر مشرف کے پاس باعزت طور پر ایوان صدر چھوڑنے کا واحد راستہ پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک پیش ہونے سے قبل استعفی ہی رہ گیا ہے۔ صدر مشرف نے انیس سو ننانوے میں ایک فوجی بغاوت میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ انہوں نے سن دو ہزار چار میں وردی اتارنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن انہوں نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔ |
اسی بارے میں چارج شیٹ مکمل، ثالثی کی کوششیں15 August, 2008 | پاکستان صدر، مواخذہ اور افواہیں16 August, 2008 | پاکستان ’صدر کا مواخذہ ہے ٹرائیل نہیں‘16 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||