چارج شیٹ مکمل، ثالثی کی کوششیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے لیے چارج شیٹ تیار کرنے والی کمیٹی نے آج اپنا کام مکمل کرکے مسودہ وزیر قانون فاروق نائیک کے حوالے کردیا ہے۔ وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے بتایا ہے کہ وزیر قانون اس مسودے کو تیکنیکی شکل دے کر اتوار یا پیر کو حکومتی اتحاد کے سربراہان کے حوالے کریں گے اور آئندہ ہفتے صدر کے مواخدے کی تحریک پارلیمان میں پیش کردی جائے گی۔ ادھر اطلاعات کے مطابق صدر پرویز مشرف کے مواخذے سے پہلے معاملہ طے کرنے کے بارے میں بعض پاکستانی شخصیات، امریکہ اور برطانیا کے نمائندوں کی کوششیں بھی آخری مرحلے میں ہیں۔ اس بارے میں مسلم لیگ (ق) کے ایک سرکردہ رہنما سنیٹر طارق عظیم نے تصدیق کی ہے کہ کچھ لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت اور صدر کے درمیان معاملہ افہام و تفہیم سے طے کیا جائے کیونکہ صدر کا مواخذا قومی مفاد میں نہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ وہ لوگ کون ہیں اور کیا ان میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر اور برطانیہ کے سابق ہائی کمشنر مارک لائل گرانٹ بھی شامل ہیں تو طارق عظیم نے کہا کہ ’وہ لوگ جو صدر پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہونے والی قومی مصالحت کے عمل میں شامل رہے وہ کوششیں کر رہے ہوں اور مارک لائل گرانٹ تو اس عمل میں پہلے روز سے شامل رہے ہیں۔‘ طارق عظیم نے صدر پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں وضاحت کی کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صدر ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے۔’مجھے پکا یقین ہے کہ وہ پاکستان میں رہیں گے۔‘ مسلم لیگ (ق) کے رہنما جو نائب وزیر اطلاعات بھی رہ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت صدر کے ساتھ ہے اور موجودہ حالات میں مواخذے کا مقابلہ کرنے یا مستعفی ہونے کا فیصلہ صدر نے خود کرنا ہے۔ حکومتی اتحاد اور صدر کے درمیان ثالثی کے حوالے سے گزشتہ روز وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے بھی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ ’صدر پرویز مشرف کے ساتھیوں نے انہیں محفوظ راستہ دینے کے لیے حکومت سے رابطے کیے ہیں۔‘ وزیر دفاع نے اسلام آباد ایئر پورٹ کو بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب کیے جانے کی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں یہ بھی کہا تھا کہ صدر کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں بہت سارے معاملات طے پاچکے ہیں اور اس کی تفصیلات بہت جلد سامنے آجائیں گی۔ ادھر اعلیٰ حکومتی ذرائع نے آج بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدر پرویز مشرف پہلے تو کہہ رہے تھے کہ وہ کیوں مستعفی ہوں اور بعد میں جب ان پر دباؤ بڑھ گیا تو انہوں نے پھر یہ پیشکش کی کہ وہ اسمبلی توڑنے اور گورنروں کی بھرتیوں سمیت بعض اختیارات چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں فی الحال نہ چھیڑا جائے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جیسے جیسے مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا وقت قریب آرہا ہے تو بعض لوگوں کے ذریعے صدر نے عہدہ چھوڑنے کی صورت میں کچھ مطالبات رکھے ہیں۔ جس کے مطابق صدر چاہتے ہیں کہ گزشتہ برس تین نومبر کو آئین معطل کرنے، ایمرجنسی لگانے اور ججوں کی برطرفی سمیت جو بھی احکامات جاری کیے انہیں قانونی تحفظ دیا جائے، ان کے مستعفی ہونے کے بعد انہیں ریٹائرمینٹ کے فوائد بشمول پروٹوکول اور کسی بھی معاملے میں ٹرائل نہ کرنے کی ضمانت دی جائے۔ دریں اثناء صدر کی خواہشات اور مطالبات کی مسلم لیگ (ن) کے ایک سرکردہ رہنما چوہدری نثار علی خان نے بھی آج پارلیمان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے۔ جمعہ کو پارلیمان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اِس وقت صدر پرویز مشرف آٹھ سالہ گناہوں کی معافی اور باقی زندگی سکون سے گزارنے کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ(ن) کا موقف واضح ہے کہ صدر مشرف کے اقدامات کو قانونی تحفظ دینے کی ضرورت ہے اور نہ محفوظ راستہ دینا چاہیے۔ ’ان کا آئندہ مقام انصاف کا کٹھڑا ہے۔‘ حکومتی اتحاد کی صدر پرویز مشرف کی معافی کے بارے میں دعوے اپنی جگہ لیکن مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے آج صدر سے ملاقات کے بعد ایکسپریس ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف نے استعفیٰ کا فیصلہ کیا ہے اور نہ ہی محفوظ راستہ مانگا ہے۔ ان کے مطابق صدر کے پاس بہت آئینی آپشن ہیں اور حکومت کی جانب سے چارج شیٹ سامنے آنے کے بعد وہ فیصلہ کریں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ حکومتی اتحاد اور صدر کے حامیوں کے دعوے اپنی جگہ لیکن بظاہر لگتا ہے کہ آئندہ پیر تک صدر کے استعیفے یا مواخذے کے بارے میں صورتحال واضح ہوجائے گی۔ |
اسی بارے میں ’مشرف پر بغاوت کا مقدمہ چلائیں‘12 August, 2008 | پاکستان جشنِ آزادی کی تقریبات پر تنازعہ 12 August, 2008 | پاکستان پنجاب اور سرحد کا عدم اعتماد12 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل14 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||