’صدر کا مواخذہ ہے ٹرائیل نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا مواخذہ ہوگا اُن کا ٹرائیل نہیں۔ سنیچر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں اطلاعات و نشریات کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں میں صدر کے خلاف قراردادیں پاس کی گئی ہیں اور انہیں عوامی عدالتوں یعنی صوبائی اسمبلیوں کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔ شیری رحمان نے کہا کہ صدر اگر مواخذے سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں آئین کے آرٹیکل 44 کے تحت مستعفی ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب صدر سے مفاہمت کا کوئی امکان نہیں اور نہ کسی دوست ملک سے اس حوالے سے کوئی تجویز آئی ہے۔ رحمان کے مطابق حکمراں اتحاد کی طرف سے صدر کے خلاف تیار کی گئی چارج شیٹ ایک دو روز میں قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں پیش کر دی جائے گی اور مواخذے کا عمل جمہوری ، آئینی اور قانونی طریقے سے مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو اس چارج شیٹ کا جواب دینے اور ان الزامات کا دفاع کرنے کا پورا موقع دیا جائےگا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکمراں اتحاد نے آئین اور قانون کومدنظر رکھتے ہوئے صدر پرویز مشرف کے خلاف چارج شیٹ تیار کی ہے۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ اگر صدر مستعفی ہوجاتے ہیں تو کیا اُن کو محفوظ راستہ دیا جائے گا تو انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ حکمراں اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کی قیادت کرے گی۔ واضح رہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کے ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر پرویز مشرف مستعفی نہیں ہوں گے اور تاحال اُن کا موقف یہ ہے کہ وہ اس چارج شیٹ کا سامنا کریں گے۔ دوسری جانب باجوڑ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو رہائش اور بنیادی سہولتیں باہم پہچانے کے بارے میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ مشیر داخلہ رحمان ملک ان افراد کی فلاح وبہبود کے حوالے سے مختلف امور سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اس ضمن میں خصوصی فنڈز بھی جاری کرے گی۔ اس سے قبل اطلاعات ونشریات کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری لانے میں موبائیل فون کمپنیوں کا بڑا اہم کردار ہے لہذا مختلف چینلز پر چلنے والے اُن کمپنیوں کے اشتہارات کو بند نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کے اشتہارات میں نقاب اُڑھے خواتین کو تو نہیں دکھایا جا سکتا اور اگر ایسا ہو تو غیر ملکی کمپنیاں اپنا سرمایہ کسی دوسرے ملک میں شفٹ کر لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جب اشتہار بنتا ہے تو اُس کے بعد اُس کو پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی کے پاس بھیج دیا جاتا ہے جس کی منظوری کے بعد یہ اشہارات مختلف چینلز پر چلتے ہیں۔ شیری رحمان نے کہا کہ یہ اشتہار اسلامی اور ملکی اقدار کے منافی نہیں ہیں۔ اجلاس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو قوائد ضوابط کے خلاف سرکاری ٹیلی وژن کا چیئرمین مقرر کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس سے ترقی کے انتظار میں منتظر سرکاری افسران میں مایوسی پھیلتی ہے۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کو بتایا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی تعیناتی وزیر اعظم کی منظوری کے بعد ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا حکومت میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگانا چاہتی اور اگر ایسا کیا گیا تو ایک طوفان کھڑا ہوجائے گا۔ شیری رحمان نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو اپنا ضابطہ اخلاق خود تیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو کسی حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں نہیں دکھانی چاہیے۔ |
اسی بارے میں ’مشرف پر بغاوت کا مقدمہ چلائیں‘12 August, 2008 | پاکستان جشنِ آزادی کی تقریبات پر تنازعہ 12 August, 2008 | پاکستان پنجاب اور سرحد کا عدم اعتماد12 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل14 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||