BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 August, 2008, 06:36 GMT 11:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مستعفی نہیں ہو رہے: اٹارنی
صدر پرویز مشرف کے چارج شیٹ کو آخری شکل دے دی گئی ہے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے قریبی مشیروں سے بات چیت میں کہا ہے کہ ان کے استعفیٰ دینے کی خبریں افواہیں ہیں اور انہوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے صدر سے ملاقات کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے تو صدر نے یہ ہی کہا ہے کہ انہوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ مستعفی ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے عدالت سے رجوع کرنے کے بارے میں بھی اُن سے مشورہ کیا۔ ملک قیوم کا کہنا تھا کہ ان کی دانست میں تو اس سلسلے میں عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔

صدر کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا ابھی تک کوئی الزام لگایا نہیں گیا اس لیے اس کا جواب دینا ممکن نہیں۔ انہوں نےکہا کہ ابھی صرف الزامات اخبارت کی حد تک ہی لگائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت ریاست کے تین بڑے ستونوں میں اختیارت کا توازن فراہم کیا گیا اور کوئی ایک ادارہ دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔

آئین میں صدر کو ان کے عہدے سے علیحدہ کرنے کے بارے میں دیئے گئے طریقہ کار کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر کو دو طرح سے ان کے عہدے سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صدر کا دماغی توازن بگڑ جائے اور وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہ رہیں تو ان کے عہدے سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری صورت میں اگر صدر پر آئین کی خلاف ورزی کرنے اور انتہائی غلط رویہ اختیار کریں تو ان کا پارلیمنٹ میں مواخذہ کیا جا سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کسی صدر کا مواخذہ نہیں کیا گیا اور دنیا میں بھی اس کی کم مثالیں ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں اس کا طریقہ کار تو دیا گیا ہے لیکن اس بارے میں واضح قواعدہ و ضوابط موجود نہیں اور ان پر ابہام پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مواخذے کی تحریک قومی اسمبلی یا سینیٹ کے پچاس فیصد ارکان اپنے دستخطوں کے ساتھ سپیکر یا چیئرمین کو پیش کر سکتے ہیں۔ تحریک کے پیش ہو جانے کے بعد اس میں لگائے جانے والے الزامات سے تین سے سات دن کے اندر سپیکر یا چیئر مین سینٹ صدر کو مطلع کرتا ہے اور اس کے بعد سات سے چودہ دن کے اندر دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں صدر اپنے کسی نمائندے یا بذات خود اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کا جواب دینے کا مجاز ہوتا ہے۔

ملک قیوم نے مزید کہا کہ ایوان خود یا اپنی کسی کمیٹی کے ذریعے ان الزامات کی تحقیقات یا تفتیش کرا سکتا ہے۔ جس کے بعد یہ تحریک ایوان میں پیش کی جاتی ہے اور اگر اس تحریک کے حق میں دو تہائی ارکان ووٹ دے دیں تو صدر کو فوری طور پر اپنے عہدے سے علیحدہ ہونا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں
صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل
14 August, 2008 | پاکستان
صدر، مواخذہ اور افواہیں
16 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد