BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کا بھی صدر پر عدم اعتماد

صوبائی اسمبلیاں
پنجاب، سندھ اور سرحد پہلے ہی صد ر پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں

بلوچستان اسمبلی نے صدر پرویز مشرف کو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز مشرف صدارت کے منصب پر فائز رہنے کے اہل نہیں لہذا وہ یا تو پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لیں یا پھر مستعفی ہوجائیں۔

جمعہ کی شام ایوان میں پیش ہونے والی مشترکہ قرارداد کو متفقہ طورپرمنظورکرلیا گیا۔ قرارداد کے وقت ایوان کے پینسٹھ میں سے اٹھاون ارکان موجود تھے اور سب نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

غیرحاضرارکان میں مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے واحد حزب اختلاف کے لیڈر سردار یارمحمد رند، جعفرخان مندوخیل، مسعود لونی، طارق مسوری اور نسرین کھتران شامل تھی۔

سپیکر محمد اسلم بھوتانی کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کی رکن و صوبائی وزیر قانون روبینہ عرفان نے ایوان میں مشترکہ قرار داد پیش کی۔ قرار داد کی تائاد کرنے والوں میں جمعیت علماءاسلام کے مولانا عبدالواسع، پیپلز پارٹی کے صادق عمرانی، اے این پی کے انجینئر زمرک خان، بی این پی ( عوامی) کے اسد بلوچ، نیشنل پارٹی پارلیمینٹرین سردار ثناءاللہ خان زہری، آزاد پارلیمانی گروپ کے سردار محمد اسلم بزنجو، مسلم لیگ (ن) کے کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی، آزاد ارکان سردار رستم خان جمالی، میر عبدالرحمان مینگل، مسلم لیگ ہم خیال کے میر حمل کلمتی، میر ظہور حسین کھوسہ بھی شامل ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ چونکہ آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت بلوچستان صوبائی اسمبلی صدر کے حلقہ انتخاب کا حصہ ہے اس لیے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے صدر پاکستان کے جائز یا قانونی انتخاب منعقدہ اکتوبر 2007 پر اعتراض کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے، انتہائی بد نظمی کا ارتکاب کرنے، دو مرتبہ آئین پاکستان کو معطل کر کے آئین کی توہین کی ہے جس سے جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور یہ کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 41کی شق 1 کے تحت صدر پاکستان مملکت کے اتحاد کی نمائندگی کرتا ہے لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف نے اس کی خلاف ورزی کی اور صوبوں کے درمیان بداعتمادی اور احساس محرومی پیدا کیا جس سے پاکستان کمزور ہوا۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی گزشتہ 8 سالوں کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان سیاسی اور معاشی لحاظ سے بند گلی میں پہنچ چکا ہے اور ان کی ناقص اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے مملکت پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین بجلی کے بحران سے دوچار ہوئی جس کے نتیجے میں عوام اذیت کا شکار ہوئے اور ساتھ ہی وفاق کمزور ہوا ملک کے اہم ترین اداروں پر سے قوم کا اعتماد اٹھا گیا۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے غیر جمہوری و غیر آئینی طو رپر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کیا جس میں بزرگ رہنماء نواب اکبر بگٹی سمیت ہزاروں بلوچوں کا قتل عام کیا گیا سینکڑوں بلوچ پشتون اور دیگر بلوچستانیوں کو غیر قانونی طو ر پر عقوبت خانوں میں رکھ کر ملک بھر میں انتہاءپسندی کے نام پر فوجی آپریشن کے ذریعے بے گناہ شہریوں کو قتل کیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں نمائندہ ایوان جنرل (ر) پرویز مشرف سے مطالبہ کرتا ہے کہ صدر پاکستان کے منصب کے لیے اپنے حلقہ انتخاب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرے یا آئین پاکستان کے تحت صدارت کے عہدے سے مستعفیٰ ہو جائیں بصورت دیگریہ ایوان مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت صدر کو مذاخذہ کا نوٹس جاری کر دے۔

اس سے قبل پنجاب سندھ اور سرحداسمبلیوں میں پہلے ہی صد ر کے خلاف عدم اعتماد کی قراردادیں منظورہوچکی ہیں۔

اسی بارے میں
صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل
14 August, 2008 | پاکستان
سندھ میں بھی ’گو مشرف گو‘
13 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد