مواخذہ تحریک آئندہ ہفتے:شیری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے عندیہ دیا ہے کہ حکومت آئندہ ہفتے صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کردے گی۔ منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’انشاء اللہ آئندہ ہفتے جب وہ دن آئے گا اور ہم قرار داد پیش کریں گے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے لیے تو اس وقت ہمارے پاس مطلوبہ تعداد سے کہیں زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہوگی‘۔ صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخدے کے لیے چارج شیٹ تیار کرنے کے لیے ڈرافٹ کمیٹی کا اجلاس منگل کو وزیر اطلاعات کی رہائش گاہ پر ہوا۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سرحد اسمبلیوں نے صدر مشرف کے خلاف واضح فیصلہ دے دیا ہے اور اس طرح کا فیصلہ بدھ کو سندھ اسمبلی اور جمعہ کو بلوچستان اسمبلی سے بھی آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے قرار داد منظور ہونے کے بعد دو روز چھٹی ہے اور اٹھارہ اگست سے شروع ہونے والے ہفتے میں صدر کے مواخذے کے لیے تحریک پیش ہوگی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار جمہوریت پسند قوتیں متحد ہوئی ہیں اور حقیقی جمہوریت کی طرف منتقلی کی اس تحریک میں وہ لوگ بھی اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دے رہے ہیں جو کل تک صدر پرویز مشرف کے ساتھ رہے۔ انہوں نے کہا آفتاب احمد شیر پاؤ کی جماعت نے سرحد اسمبلی میں صدر مشرف کے خلاف ووٹ دیا ہے اور کنگز پارٹی یعنی مسلم لیگ (ق) کے کئی اراکین اور بیشتر آزاد اراکین نے بھی حکومت سے رابطہ کیا ہے کہ وہ جمہوریت کے استحکام کے لیے ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ صدر کا مواخذہ کرنے کا پارلیمان کو آئینی اختیار حاصل ہے اور اسے کہیں کوئی چیلینج نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق اگر کسی نے اِس اختیار کو چیلینج کیا تو وہ آئین خلاف ورزی ہوگی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ حکومت پر امریکی دباؤ ہے کہ صدر کو محفوظ راستہ دیا جائے تو رضا ربانی نے کہا کہ انہیں ایسا کوئی دباؤ محسوس نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق صدر کے خلاف چارج شیٹ کی تیاری میں تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں اور دو سے تین روز میں تیار ہوجائے گی۔ ڈرافٹ کمیٹی کے ایک اور رکن اور مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما اسحٰق ڈار نے اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور سرحد اسمبلی میں ووٹنگ کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا ہے اور دیگر اسمبلیوں کے نتائج بھی اس سے مختلف نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو صورتحال سمجھ لینی چاہیے اور اب بھی صدر پرویز مشرف کے پاس وقت ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ واضح رہے کہ اگر آئندہ ہفتے حکومت نے صدر کے مواخذے کے لیے تحریک پیش کردی تو اس پر کارروائی سات سے چودہ روز میں ہوگی اور امکان ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک ووٹنگ ہوسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں سرحد اسمبلی کا صدر پر عدم اعتماد 12 August, 2008 | پاکستان صدراعتماد کا ووٹ لیں:پنجاب اسمبلی11 August, 2008 | پاکستان مشرف، چارج شیٹ کی تیاریاں 11 August, 2008 | پاکستان ’مشرف مواخذے کا سامنا کریں‘09 August, 2008 | پاکستان مواخذہ: حامیوں اور مخالفین کی تیاریاں08 August, 2008 | پاکستان سندھ اسمبلی طلب کرنے کا مطالبہ08 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||