ایوب ترین کوئٹہ |  |
 | | | بلوچستان اسمبلی کااجلاس بلانے کے لئے سمری دوتین روز میں گورنر کو بھجوائی جائے گی |
وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی قرارداد کے لیے65 کے ایوان میں انہیں 64 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں صدر کے مواخذے کے سلسلے میں حکمت عملی طے کرنے کے لیے مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں اور کابینہ کے اراکین کے مشترکہ اجلاس کے بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایاکہ اجلاس میں بلوچستان اسمبلی میں پیش کی جانےو الی مجوزہ قرارداد کے حوالے سے امور کا جائزہ لیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ صدر کے مواخذے کے حوالے سے تمام معاملات بلوچستان کے عوام کی امنگوں اور صورتحال کے تقاضوں کے مطابق طے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ قرارداد میں پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان کے عوام سے کی جانے والی زیادتیوں اور نواب اکبر بگٹی سمیت دیگر افراد کی ہلاکتوں کا ذکر بھی ہوگا۔ تمام پارلیمانی گروپوں کے اتفاق رائے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو قرارداد کا مسودہ تیار کرنے کے علاوہ پیرکو گورنر بلوچستان سے ملاقات کرکے صوبائی اسمبلی اجلاس بلانے کی درخواست کریں گے ۔جبکہ پرویزمشرف کے مواخذ ے کی قرارداد کامیابی سے منظورکرالی جائے گی بلوچستان اسمبلی کااجلاس بلانے کے لئے ریکوزیشن دوتین روز بعد گورنر بلوچستان کو بھجوائی جائے گی۔ اجلاس کے بعد آزاد اراکین کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو نے کہا کہ ہم نے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت سے اپیل کی ہے کہ صدر کے خلاف چارج شیٹ میں بلوچستان آپریشن، نواب محمد اکبر خان بگٹی اور نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کے نکات کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے دس آزاد اراکین کی حمایت انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور ہو، اس کے لیے ق لیگ کی صوبائی قیادت سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مواخذے کی حمایت کریں۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر شیخ جعفرخان مندوخیل نے میڈیا سے کہاکہ صدر پرویزمشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک کے حوالے سے (ق) لیگ کے صوبائی اراکین اسمبلی اوردیگررہنماؤ ں سے مشاورت کے بعد آئندہ ایک دوروز میں حتمی فیصلہ کیاجائیگا۔ |