BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 16:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یومِ آزادی پر قوم پرستوں کا یومِ سیاہ

بلوچستان کا دار الحکومت کوئٹہ (فائل فوٹو)
بلوچ قوم پرستوں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت نہ کرنے کی اپیل کی تھی
بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کی اپیل پر چودہ اگست کو پاکستان کا یوم آزادی یومِ سیاہ کے طور پر منایا گیا ہے اور صرف سرکاری سطح پر کوئٹہ سمیت بعض بڑے شہروں میں جشن آزادی کی تقریبات ہوئی ہیں۔

ادھر بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں وڈیرہ شمبان بگٹی سمیت چھ افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

بلوچستان میں جشنِ آزادی کے حوالے سے ہونے والی تقریبات میں صرف اعلٰی سرکاری حکام نے شرکت کی جبکہ عام لوگوں نے بلوچ مزاحمت کاروں کی مبینہ دھمکیوں کی وجہ سے یہ دن سادگی سے گزارا اور ماضی کے برعکس اس بار نہ توگھروں اور دکانوں کو سجایا گیا اور نہ ہی پاکستانی جھنڈے لہرائے گئے۔

گورنر ہاؤس کوئٹہ میں یوم آزادی کی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر نواب ذوالفقار علی مگسی نے کہا کہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امن وامان بہتر بنانا وفاق کی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ پولیس سمیت تمام انتظامی محکمے اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔گورنر نے کہا کہ انہوں نے اور وزیراعلیٰ نے حلف اٹھانے کے بعد کہا کہ دونوں مل کر صوبے کے حالات میں بہتری لانے کی کوششیں کریں گے لیکن افسوس کے کوششوں کے باوجود صوبے کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

بلوچستان اسمبلی کی سبزہ زار پر پرچم کشائی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نہیں روک سکتے لیکن حالات میں بہتری لانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’امن وامان کا مسئلہ صرف بلوچستان میں نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور صوبہ پشتونخواہ کی حالت ہم سے بدتر ہے‘۔

دوسری جانب بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں کی اپیل پر کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پرمنایا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان میں جاری آپریشن کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور مطالبہ کیا گیا کہ لاپتہ بلوچوں کو منظرِ عام پر لایا جائے۔

بلوچستان میں ماضی میں بھی بارودی سرنگ کے حملے ہوتے رہے ہیں

اس موقع پر کچھ علاقوں میں لوگوں نے گھروں پر سیاہ جھنڈے بھی لگائے۔یوم آزادی کے موقع پر کوئٹہ میں سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود زیادہ تر دکانیں اور مارکیٹ بند رہے اور سڑکوں پرٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔

دریں اثناء فرنٹیئر کور ذرائع کے مطابق نواب اکبر بگٹی کے منحرف وڈیرہ فضل خان شمبان بگٹی کو بارودی سرنگ کے دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ وہ ڈیرہ بگٹی سے سوئی کی طرف جا رہے تھے کہ لوٹی موڑ کے مقام پر ان کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ اس دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ اس میں سوار وڈیرہ شمبان بگٹی اور ان کے پانچ دیگر ساتھی موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق اس دھماکے میں تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ۔

واقعہ کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لیکر ملزمان کی تلاش شروع کردی جبکہ لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال سوئی منتقل کر دیا گیا۔ بلوچ ری پبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ لوٹی موڑ پر ہونے والا دھماکہ ریموٹ کنٹرول بم کا تھا جس میں وڈیرہ شمبان بگٹی کے پانچ محافظ بھی مارے گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد