BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 July, 2008, 10:14 GMT 15:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی: پندرہ افراد ہلاک

ڈیرہ بگٹی (فائل فوٹو)
مزاحمت کاروں نے ایف سی کے کیمپ پر حملہ کیا تھا۔
بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں بلوچ مزاحمت کاروں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں مزید15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں ۔

جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب مزاحمت کاروں نے لوٹی گیس فیلڈ کے قریب ایف سی کے کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کیا ۔

لوٹی گیس فیلڈ کے قریب توبہ نوکھانی میں کل رات بلوچ مزاحمت کاروں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان کئی گھنٹے تک جاری جھڑپوں میں فرنٹیئر کور کےتین اہلکار اوربارہ بلوچ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان جھڑپوں میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا استعمال ہوا ہے جس میں درجنوں کی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل شاہد محمود کے مطابق مزاحمت کاروں اور سیکورٹی فورسز میں جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب مزاحمت کاروں نے لوٹی گیس فیلڈ کی حفاظت پر مامور فرنٹیئر کور کے ایک کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کیا۔

اس حملے میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار ہلاک ہوئے ۔کرنل شاہد محمود کے مطابق ایف سی نے بعد میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک فراری کیمپ کو تباہ کرکے وہاں سے جدید خود کار ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کرلیا ۔

اس سے قبل ہفتہ کے روز پیر کوہ کے علاقے میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے دوران اچانک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار رحیم اللہ موقع پر ہلاک اور فیاض احمد شدید زخمی ہوگیا۔

بلوچ ری پبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے علاقہ ڈیرہ بگٹی میں بلوچ مزاحمت کاروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ایک ہفتے سے جاری جھڑپوں میں اب تک اسی سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں دس سے زیادہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

ان جھڑپوں، اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے تلاشی کی کارروائی کے باعث ڈیرہ بگٹی کے متاثرہ علاقوں سے ایک بار پھر بڑی تعداد میں لوگوں نے قریبی علاقوں جعفرآباد، نصیرآباد اور سندھ کے بعض اضلاع کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔

ادھر ضلع کوہلو میں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کوہلو کے علاقے کاہان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے پہاڑی علاقوں سے چھ راکٹ فائر کیے جو چیک پوسٹ کے قریب ہی کھلے میدان میں جاگرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد