BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 July, 2008, 18:41 GMT 23:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ میں دو ہلاک بارہ زخمی

پولیس اہلکار(فائل فوٹو)
پولیس حکام اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہوگئی
کوئٹہ میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں دو افراد ہلاک اور دو پولیس اہلکاروں سمیت بارہ افراد زخمی ہوئے۔ تصادم اس وقت شروع ہوا جب کرانی روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کے خلاف ان کے ورثاءاحتجاج کر رہے تھے۔

ہفتہ کی صبح گیارہ بجے نامعلوم مسلح افراد نے بروری کے علاقے کلی کرانی میں بعض نامعلوم مسلح افراد سے گاڑی چھیننے کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے عارف عباس کو ہلاک جبکہ خادم حسین کو زخمی کردیا۔

ہلاک ہونے والے کی لاش اور زخمی شخص کو بولان میڈیکل ہسپتال پہنچایا گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر مقتول کے ورثاء بڑی تعداد ہسپتال پہنچی اور ہسپتال کے سامنے ٹائر جلا کر بروری روڈ کو بلاک کر دیا۔

اس دوران انسداد دہشتگردی فورس (اے ٹی ایف )اور پولیس کی نفری روڈ کھلوانے پہنچ گئی۔ پولیس حکام اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے کہ اچانک پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان فائرنگ شروع ہوئی جس کے نتیجے میں اے ٹی ایف کا اہلکار لطیف چنگیزی اور پولیس اہلکار ذاکر حسین زخمی ہو گئے۔

اے ٹی ایف اور پولیس نے جوابی فائرنگ کر دی اور آنسو گیس شیلنگ کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو مظاہرین عارف حسین اور علی رضا ہلاک جبکہ دس افراد زخمی ہوگئے جن میں ریاض، حسین، حسن رضا، اصغر علی، حیات اللہ، علی حسن اور ایک خاتون خدیجہ شامل ہیں۔

زخمی اہلکاروں کو سول ہسپتال کوئٹہ جبکہ دیگر زخمیوں کو بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا۔ شدید فائرنگ کے بعد علاقے میں زبردست خوف و ہراس پھیل گیا اور کرانی روڈ، بروری روڈ اور دیگر قریبی علاقوں میں تمام دکانیں اور مارکیٹیں بند ہوگئیں جبکہ لوگ بھی گھروں تک محصور ہوگئے۔

دو مظاہرین کی ہلاکت کے بعد لوگوں میں سخت اشتعال پھیل گیا جبکہ پولیس نے علاقے میں تلاش شروع کر کے متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

ادھر بلوچستان کے علاقے اوچ میں ایک دھماکے میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کا ایک اہلکار امجد ہلاک ہوا ہے۔

اپنے آپ کو بلوچ ربپلیکن آرمی کے ترجمان ظاہر کرنے والے سر باز بلوچ نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کر تے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی اس سرچ آپریشن کے درعمل کے طور پر کی گئی جو بقول ان کے پاکستانی فورسزنے گزشتہ دنوں اوچ اور لوٹی کے علاقوں میں ’بے گناہ‘ بلوچوں کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد