BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ فائرنگ: ایک ہلاک تین زخمی

بلوچستان کے بشتر جنوبی اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں جبکہ ادھر سبی اور ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقے میں فرنٹییر کور کی چوکی پر فائرنگ سے ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے۔

کوئٹہ میں بروری روڈ پر وحدہ کالونی کے سامنے برگر اور کولڈ ڈرنک کی دکان پر علاقے کے نوجوان بیٹھے تھے کہ اس دوران دو موٹر سائکل سوار آئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ علاقے کے لوگوں نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے نقاب اوڑھ رکھے تھے اور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے ہیں۔

اس حملے میں چار آباد کار زخمی ہوئے جنھیں بولان میڈیکل کملیکس پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ایک نوجوان احترام اللہ دم توڑ گیا ہے جبکہ تین زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ تمام زخمیوں کو سینے اور پیٹ پر گولیاں لگی ہیں۔

اس کے علاوہ سبی اور ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقے میں فرنٹییر کور یعنی نیم فوجی دستے کی ایک چوکی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس سے ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے ۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ اس حملے میں دو اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سوموار کو رات گئے نصیر آباد اور سوئی کے سرحدی علاقے چھتر کے قریب بارودی سرنگ کے ایک دھماکے سے ایک سکیورٹی اہلکار سمیت دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نے اس حملے کی زمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملہ ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا ہے ۔

اس کے علاوہ منگل کی صبح کوئٹہ میں ایک رکشہ ڈرائیور کے قتل کے واقعہ کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور ٹائر جلا کر سڑک بند کر دی گئی۔

رمضان علی نامی رکشہ ڈرائیور کو سوموار کی رات نامعلوم افراد نے سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ رمضان علی کے بھائی محمد موسٰی نے بتایا کہ کچھ لوگ رکشے میں بیٹھے اور سریاب روڈ پر لے جانے کا کہا اور پھر راستے میں رمضان علی کو ہلاک کر دیا ۔ رمضان علی کا تعلق ہزارہ قبیلہ کی شیعہ برادری سے بتایا گیا ہے۔

اس واقعہ کے خلاف آج بلوچستان اسمبلی کے سامنے رکشہ ڈرائیوروں اور ہزارہ قبیلے کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

آل بلوچستان رکشہ ایسوسی ایشن کے صدر لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ کچھ روز پہلے ایک پک اپ ڈرایور کو بھی اسی طرح ہلاک کیا گیا تھا۔

ادھر مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ندیم مسیح کی ہلاکت کے واقعہ کے خلاف احتجاج آج تیسرے روز بھی جاری رہا۔ ندیم مسیح کو چھاؤنی کے علاقے میں چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں یہ الزامات سامنے آئے کہ ندیم مسیح سرکاری اہلکاروں کے تشدد سے ہلاک ہوئے۔ کوئٹہ میں مشنری سکول تین روز کے لیے بند ہیں۔

فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے بعد ندیم مسیح کی طبعیت خراب ہوگئی تھی اور انھیں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ دم توڑ گئے اور اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ گزشتہ روز کوئٹہ کے سیٹلائیٹ ٹاؤن میں ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ دو روز میں تین تاجروں کو اغوا کیا گیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بشتر جنوبی اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

اس بارے میں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد