بلوچستان کے لیے پنجاب کا پیکج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے وزیراعلٰی اور مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں شہباز شریف نے اپنے دورۂ بلوچستان کے موقع پر دونوں صوبوں کے مابین بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے پنجاب کی طرف سے بلوچستان کے لیے ایک پیکج کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چاروں وزرائےاعلٰی صوبوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی قائم کریں۔ کوئٹہ کے دورے کے دوران اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پنجاب بلوچستان کا بڑا نہیں بلکہ سگا بھائی ہے اور بلوچستان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وہ ضرور کوششیں کریں گے۔ انہوں نے بلوچستان کے لیے گندم کا کوٹہ پچاس ہزار ٹن سے بڑھا کر ایک لاکھ ٹن کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ پنجاب کے کالجز اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بلوچستان کے غریب طلباء اور طالبات کے اخراجات پنجاب حکومت برداشت کرے گی۔ انہوں نے زراعت، آبپاشی، بجلی، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بلوچستان حکومت کو معاونت کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ہر سال بلوچستان کے پچاس پولیس اہلکاروں کو پنجاب میں تربیت فراہم کی جائے گی۔ شہباز شریف نے اپنے اس دورے کے دوران نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال اکبر بگٹی سے بھی بگٹی ہاؤس میں ملاقات کی۔ ان کے اس دورے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے اور پولیس کے علاوہ بگٹی قبیلے کے محافظ بھی موقع پر موجود تھے جبکہ بگٹی ہاؤس جانے والے راستے پر تمام دکانیں بند کرا دی گئی تھیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف آٹھ سال بعد پیر کی صبح کوئٹہ پہنچے تھے جہاں وزیراعلٰی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر کوئٹہ ایئر پورٹ پر مسلم لیگ نواز کے صوبائی قائدین اور کارکن بھی بڑی تعداد میں موجود تھے | اسی بارے میں کوئٹہ میں دوبارہ ایف سی تعینات08 July, 2008 | پاکستان حکومت کے سو دن: کچھ وعدے وفا08 July, 2008 | پاکستان بلوچستان کے بعض علاقوں میں ہڑتال03 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||