BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 August, 2008, 13:45 GMT 18:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بیوروکریسی ترقی میں حائل‘

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن اس کی شکایت ہے کہ اسے آمدنی میں سے مناسب حصہ نہیں ملتا۔
صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹروں نے پاکستانی بیوروکریسی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ صوبے کی ترقی میں رکاوٹ ہے اور بلوچستان میں امن وامان کا بہانہ بنا کر وہاں تیل اور گیس کی تلاش کے منصوبے شروع نہیں ہونے دیتی۔

سنیچر کو پیٹرولیم سے متعلق سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے کچھ علاقوں میں امن وامان کی صورتحال خراب ہے جبکہ صوبے کے باقی حصوں میں امن وامان کی صورتحال تسلی بخش ہے۔

سینیٹر شاہد بگٹی اور سینیٹر اسماعیل بُلیدی نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے صوبہ بلوچستان میں اب تک صرف چار سی این جی اسٹیشن لگانے کے لائسنس جاری کیے ہیں جبکہ گیس کے ذخائر اسی صوبے میں ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر دلاور عباس نے اجلاس میں موجود اوگرا کے افسران سے کہا کہ وہ اس ضمن میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کریں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گیس پیدا کرنے والی کمپنیاں اپنی مرضی سے ایل پی جی کی قیمتیں بڑھا دیتی ہے۔ اوگرا کے قائم مقام چیئرمین نے بتایا کہ حکومت جلد ہی گیس کی قیمتوں کے حوالے سے اوگرا کو گائیڈ لائن دےگی اور حکومت اوگرا کے کردار میں بھی جلد ترمیم کرے گی جس کے بعد اوگرا گیس کی قیمتوں کا تعین کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں اور اُن سب کو دیکھنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں بہت سے لوگوں نے سرمایہ کاری کی ہے اس لیے قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے سرمایہ کار اور صارف کے مفاد کومدنظر رکھنا پڑے گا۔

آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے بارے میں اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت نے پیٹرولیم کی مصنوعات میں چار روپے کی کمی کی ہے تاہم صارفین اس سے مستفید نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ رقم سبسڈی میں ڈال دی گئی ہے جو حکومت پیٹرولیم کی مصنوعات پر صارفین کو دے رہی ہے۔

سنیٹر دلاور عباس نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے اس لیے حکومت ملک میں پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد