BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 August, 2008, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچستان میں آپریشن نہیں ہو رہا‘

 ایف سی
’غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی سرکوبی ایف سی کے فرائض میں شامل ہے‘
انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل سلیم نواز نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان کے کسی بھی علاقے میں کوئی فوجی یا نیم فوجی آپریشن نہیں ہو رہا تاہم منتخب حکومت کو یرغمال بنانے والے اور فورسز پر حملے کرنے والوں کو کسی صورت میں نہیں چھوڑا جائے گا۔

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل سلیم نواز نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی سمیت صوبے کے کسی حصے میں فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرنٹیئر کور سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے ملکی اور غیر ملکی انجینئرز اور دیگر عملے کی حفاظت پر معمور ہے اور یہ تعیناتی آج نہیں بلکہ تین سال قبل ہوئی تھی۔

آئی جی ایف سی نے کہا کہ وہ مٹھی بھر عناصر جو آپریشن کا واویلا کر رہے ہیں ان کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ ان کے مطابق بم دھماکے کرنے والے اور دوسری غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی سرکوبی ایف سی کے فرائض میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کے تین رخ ہے جن میں ایک ترقی ، دوسرا بات چیت اور تیسرا ان شرپسندوں کے ساتھ نمٹنا ہے جو قومی تنصیبات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

میجر جنرل سلیم نواز نے کہا کہ ’وزیراعلیٰ بلوچستان نے مفاہمت کا جو اعلان کیا ہے اس کے تحت ہم ان تمام لوگوں سے ،جو بہکاوے میں آئے ہیں، اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس عمل سے فائدہ اٹھا کر ترقیاتی عمل میں شریک ہو جائیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ٹریک اڑانا، حجام کی دکان پر بم پھینکا یہ کوئی بلوچوں کی خدمت نہیں ہے۔

چمن اور نوکنڈی میں موبائل فونز کو جام کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آئی جی ایف سی نے کہا کہ ان علاقوں میں موبائل فون اس لیے جام کیے گئے تاکہ بلو چ مزاحمت کاروں کا اپنے لیڈروں سے رابطہ نہ ہوسکے کیونکہ پاکستانی موبائل سے افغانستان میں موجود شرپسند با آسانی اپنے مقاصد کی تکمیل کر سکتے تھے اس لیے ہم نے موبائل کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹاور میں ایسے سسٹم نصب کریں جس سے موبائل فون کا فائدہ صرف پاکستانی سرحد کے اندر لوگوں کو حاصل ہو۔

دوسری جانب بلوچ مزاحمت کاروں نے ڈیرہ بگٹی کے پیرکوہ میں ایک اورگیس پائپ لائن کو بم دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ بلوچ ری پبلیکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سوئی کے قریب سکیورٹی فورسز کو ایک حملے میں بڑ ے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے کا دعوٰی کیا ہے تاہم کوئٹہ میں ایف سی ذرائع نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد