BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئینی پیکج: نون کی سفارشات تیار

نواز اور زرداری
آئین میں روز روز تبدیلی نہیں کی جاسکتی لہٰذا پوری احتیاط سے ان کو حتمی شکل دی جائے گی: احسن اقبال
حکمران اتحاد کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ اس نے پیپلز پارٹی کے آئینی پیکج پر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے تاہم انہیں ابھی عوام کے سامنے رکھنے سے انکار کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ پیپلز پارٹی کے مجوزہ پیکج پر ان کی جماعت نے اپنی سفارشات مکمل کر لی ہیں اور اب جماعت کے سربراہ نواز شریف کو منظوری کے لیئے پیش کی جائیں گی۔

تاہم صحافیوں کے کافی اصرار کے باوجود ان کا مؤقف تھا کہ جب تک پیپلز پارٹی کے حوالے یہ سفارشات نہیں کر دی جاتیں وہ اسے عوام کے سامنے رکھنے کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں ان سفارشات پر بحث سے ان کی صحت اور افادیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے تاہم اتنا بتایا کہ انہیں اس پیکج میں مختلف شقوں خصوصاً میثاق جمہوریت سے متعلق باتوں سے مکمل اتفاق ہے۔ تاہم چند شقوں پر ان کے تحفظات ہیں۔ ’پیکج ابھی حرفِ آخر نہیں ہیں۔ اس میں ترامیم کی جاسکتیں ہیں۔‘

ایک دوسرے سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ چونکہ آئین میں روز روز تبدیلی نہیں کی جاسکتی لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ پوری احتیاط سے ان کو حتمی شکل دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ ججوں کی بحالی کو اس پیکج کا حصہ نہ بنائیں۔

’ججوں کی بحالی کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ الگ راستہ اپنایا جائے جیسا کے اعلان مری میں ہے۔ اس کا ہمیں فوری حل چاہیے۔ آئینی ترامیم پر اتفاق رائے کے لیے کافی وقت لگ سکتا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ججوں کا معاملہ بھی اسی وجہ سے لٹکا رہے۔‘

احسن اقبال کی اخباری کانفرنس کا تاہم مقصد صدر پرویز مشرف کے گزشتہ دنوں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کے دوران حکومتی قیادت پر تنقید کا جواب دینا تھا۔ ان کا کہنا تھا صدر کے آٹھ سالہ دورِ حکومت کی وجہ سے ہی ملک کو مختلف آئینی و اقتصادی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ صدر کا مواخذہ اور ججوں کو چوبیس گھنٹوں میں بحال کرنے کو تیار ہیں اگر ان کے اتحادی ان کا اس میں ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا کہ لال مسجد میں محصور بےقصور طلبہ کو محفوظ راستہ نہ دینے والے کو اب محفوظ راستے کی مانگ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو پارلیمان کے سامنے کھلی سماعت کے لیے پیش کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد