BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 April, 2008, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ججوں کی بحالی معاہدہ کے مطابق‘

معزول چیف جسٹس چودھری افتخار(فائل فوٹو)
تاثر دیا گیا ہے کہ اختلاف کی وجہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی ہے
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہوں نے تمام ججوں کو اعلانِ بھوربن کے مطابق مقررہ مدت کے اندر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے ججوں کی بحالی کے بارے میں اپنی دو روزہ بات چیت کے اختتام پر منگل کو پنجاب ہاؤس میں ایک نیوز بریفنگ میں کیا۔

اس موقع پر وزیر قانون فاروق ایچ نائک نے اتفاق رائے سے تیار کردہ بیان پڑھا اور بتایا کہ ججوں کی بحالی سمیت تمام امور پر اتحادی جماعتوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اعلان بھوربن پر عمل درآمد کے لیے اجلاس میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام اتحادی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو وکلاء برادری کی مشاورت سے ان تجاویز کو حتمی شکل دے گی۔

میاں نواز شریف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومتی اتحاد قائم رہے گا اور جو عناصر اتحاد توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ناکام ہوں گے۔ جس پر آصف علی زرداری نے کہا انشاء اللہ۔
سابق وزیراعظم نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی بحالی کے بارے میں میڈیا نے ’ڈیڈ لاک‘ جیسا سخت ترین لفظ استعمال کیا ہے جو کہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ڈیڈ لاک ہوتا تو وہ پھر بات چیت کیسے کرتے؟۔ تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ تھوڑا بہت اختلاف رائے تھا جو اب ختم ہوچکا ہے۔

آصف علی زرداری سے جب پوچھا گیا کہ کیا چیف جسٹس کی مدت ملازمت کا معاملہ طے ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی جو کمیٹی بنے گی وہ اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔

’ہم جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے متحد ہیں اور سوچ یہ ہے کہ عدلیہ اور قانون کو مستحکم کیا جائے اور نہ کہ کسی فرد کو، کچھ افراد کے بارے میں ہمارے خیالات بھی مختلف ہیں، کچھ لوگوں کی مدت خود ہی ختم ہوجائے گی اگر ہم نے انہیں ایک سال کے بعد توسیع نہیں دی تو وہ ویسے ہی چلے جائیں گے، کچھ ان میں سے بہتر بھی ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ تمام معاملات کے بارے میں پارلیمان میں پیکیج پیش کیا جائے، کیونکہ ہمارے درمیان ججوں کی بھرتی کیسے کرنا ہے یہ طے کرنے کے لیے بھی پہلے ہی ایک معاہدہ موجود ہے۔‘

میاں نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ بہت جلد ججوں کی بحالی کے بارے میں قرار داد پارلیمان میں پیش کی جائے گی، جیسا کہ اعلان بھوربن میں طے ہے۔ ان کے مطابق پہلے ججوں کی بحالی کے لیے پارلیمان میں قرار داد آئے گی اور عدالتی اصلاحات کا پیکیج بعد کی بات ہے۔

آصف زرداری نے ایک موقع پر کہا کہ وہ عوام اور وکلاء برادری کو بتانا چاہتے ہیں کہ سیاسی اور جمہوری طاقتیں متحد ہو کر بھوربن معاہدے پر عمل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کی رائے ان سے مختلف ہوسکتی ہے لیکن ان لوگوں کو اپنی رائے رکھنے کا مکمل حق ہے۔

آصف زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کیا جج صاحبان بحال ہو کر آٹے کی قیمت کم کرا دیں گے۔ ’انصاف مہیا کرنے کے لیے ایک آئینی پیکج کے حق میں ہیں جس سے ہم مطمئن ہوں، ملک مطمئن ہو اور پارلیمنٹ مطمئن ہو کہ انصاف ملے گا۔‘

الٹی گنتی کے سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ وہ الٹی گنتی کے خلاف ہیں اور اگر الٹی اور سیدھی گنتی مان لیتے تو انہیں سیاست میں اتنی جدوجہد نہ کرنی پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کو دس بارہ روز سہالہ ریسٹ ہاؤس میں رکھا گیا تو اس وقت بھی وہ کوئی گنتی کرنا چاہتے تھے تو اس وقت ان کی گنتی نہیں مانی تو اور لوگوں کی کیوں مانوں۔

بریفنگ میں جب آصف زرداری سے پوچھا گیا کہ انہیں جیل بھجوانے والے میاں نواز شریف سے جب وہ آج صلح کرسکتے ہیں تو انہیں ضمانت پر رہا نہ کرنے والے ان ججوں کو کیوں معاف نہیں کرتے تو اس پر انہوں نے کہا کہ ’پہلے تو مجھے جیل نواز شریف نے نہیں بلکہ لغاری (فاروق لغاری) نے بھیجا تھا نواز شریف نے نہیں دوسری بات یہ کہ مجھے پنجاب کے گورنر ہاؤس سے گرفتار فوج نے کیا تھا۔‘

انہوں نے وضاحت کی کہ انہیں ججوں سے کوئی غلہ نہیں لیکن وہ کسی فرد کے بجائے ادارے کو مضبوط کرنے کے حق میں ہیں۔ ’ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس دفعہ اگر کسی جج نے کسی آمر کو دوبارہ بحال کیا تو اگر آمر پر ہماری نہیں چلی تو کم از کم اس جج کو تو ٹانگ دیں۔‘

نیوز بریفنگ میں جب میاں نواز شریف سے صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیارات ختم کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’میں تو اٹھاون ٹو بی کے خاتمے کا سخت حامی ہوں اورمیرا خیال ہے کہ آصف علی زرداری بھی اس کے حامی ہیں۔۔میں کہتا ہوں کہ اس میں جلدی ہونی چاہیے لیکن یہ کہتے ہیں کہ تھوڑا سا صبر کرلیں۔۔اب دیکھیں کب ہوتا ہے۔۔ میں تو صبر کر رہا ہوں۔‘

جس پر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’میں کہتا ہوں کہ جب کرسکیں تو کرلیں صرف کہنے کے لیے نہ کریں۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ججوں کی بحالی کے حوالے سے طویل مذاکرات میں معاملہ طے نہیں پاسکا تھا اور آج اس پر اتفاق رائے ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
ججز کی بحالی کا کیا ہوگا؟
13 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد