BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 August, 2008, 15:01 GMT 20:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاہی پر روشن خیالی کا پوڈر
ضیاالحق طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے
ضیاء الحق کے گیارہ سالہ سیاہی کے دور کو گزشتہ آٹھ نو سالوں میں روشن خیالی کا پوڈر لگا کر بیچا کیا گیا۔

یہ کلمات پاکستان کی مشہور شاعرہ اور منصفہ کشور ناہید نے ضیاء الحق کی بیسویں برسی کے موقع پر بی بی سی اردو سروس سے اپنے ایک انٹرویو میں اس دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہے۔

’ضیاالحق کی برسی پر ہمیں ایک کمینی سی خوشی تھی کہ پاکستان کو ستر ہزار کوڑے دینے والا، قران کی آیات کو سینسر کرنے والا اور عورتوں کے خلاف کالے قوانین لانے والا ہماری کوشش کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ختم ہو گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ضیاء الحق کے طیارے کے حادثے کی خبر انہوں نے اسلام آباد میں ٹی وی پر سنی اور پھر سب دوستوں اکھٹے ہوئے۔۔۔

ضیاالحق کے دور کا مشرف کے دور سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا اُس دور اور اِس دور میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے اِس دور میں بھی صحافیوں کو مارا گیا، ان کے ایکسیڈنٹ کیئے گئے، لوگوں کو سڑکوں سے اٹھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بہت سے پروگریسو نوجوان کو وہ جنتی ہیں جنہیں گھروں سے اٹھایا گیا اور آج تک ان کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کا تو لوگوں کو پتہ چل گیا لیکن جن نوجوانوں کو لورالائی، کوئٹہ، خصدار اور تربت سے اٹھایا گیا اور ان کا کچھ پتہ نہیں۔

صدر مشرف کے دورے میں میڈیا کو دی جانے والی آزادیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں کہ صدر مشرف نے یہ آزادیاں دیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ صدر مشرف نے میڈیا کو آزادی دی۔ انہوں نے کہا کہ جب پچاس چینل کھل گئے تو اس شور میں کہیں سے تو کوئی آواز آنے لگی۔

انہوں نے کہا کہ وقت کی مجبور تھی کہ صدر مشرف کو یہ کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا میڈیا میں بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جو صدر مشرف کا انٹرویو کرنے کو تڑپتے تھے آج اس پر تنقید کرنے کو بیٹھے ہیں۔

کشور ناہید نے کہا کہ میڈیا میں بھی گرگٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ صدر مشرف کی حمایت میں ایک لفظ بھی نہیں کہیں گی کیونکہ اس نے عورت کے حق میں کوئی کام نہیں کیا، انسانوں کے حق میں کوئی کام نہیں کیا۔

منتخب ایوانوں میں عورتوں کی نمائندگی بڑھانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سیٹیں بڑھا دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہ عورتوں جو ایوانوں میں آئیں انہوں نے مرآعتیں لینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

اسی بارے میں
’پاکستان میں اب صرف گیدڑ‘
05 September, 2007 | پاکستان
پچیس سال پہلے
05.07.2002 | صفحۂ اول
پنجاب کی پسند: ضیاءالحق
03.10.2002 | صفحۂ اول
پاکستان مشرف بہ افواج
25.04.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد