جمہوریت اور عوام کی فتح: رد عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے زرداری ہاؤس کے باہر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف کا استعفیٰ جمہوریت اور عوام کی فتح ہے۔ نئے صدر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ اتحادی جماعتیں مل کر کریں گی۔ مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف اور جمیعت علمائے اسلام کے قائد فضل الرحمٰن زرداری ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔ زرداری ہاؤس کے باہر پیپلز پارٹی کے کارکن نعرے بازی کر رہے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے زرداری ہاؤس آمد پر میڈیا سے مختصر گفتگو کی اور کہا کہ آج کا دن قوم کے لیے خوشی کا دن ہے اور عنقریب عوام کو ججوں کی بحالی کی خوشی کی خبر بھی سنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کے استعفے کے ساتھ ہی معیشت میں بہتری آئی ہے اور کراچی سٹاک ایکسچینج بھی اوپر گیا ہے۔ صدر مشرف کو محفوظ راستے فراہم کرنے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کسی شخص کے خلاف مواخذہ نہیں کر رہی تھی بلکہ اس سوچ کے خلاف کر رہی تھی جو آئین کے خلاف ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے استعفے سے ملک مزید محاذ آرائی سے بچ گیا اور مسئلہ افہام و تفہیم سے حل ہوگیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر پرویز مشرف نے معاملے کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ صدر مشرف نے یہ فیصلہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں کیا ہے، ملک کسی طور پر عدم استحکام اور بے یقینی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔تصادم یا ٹکراؤ ملکی سلامتی کے لیے زہر قاتل ہے۔ اب یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ ملک کو درپیش مسائل اور چیلنجز سے باہر نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ مواخذے کے نتائج کچھ بھی ہوتے مگر اداروں کے درمیان تصادم کا جو تاثر مل رہا تھا اس میں صدر پرویز مشرف نے پہل کردی اور ثابت کردیا ہے کہ ان کی نظر میں ملکی مفاد سب سے پہلے ہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار سے جب سوال کیا گیا کہ صدر مشرف کے اس فیصلے کے سندھ کے گورنر پر بھی اثرات مرتب ہوں گے تو ان کا کہنا تھا کہ مفاہمت کو ہر حال میں کامیاب ہونا چاہیئے ملک محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا صدر مشرف پرویز متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں تو ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ یہ بات بہت قبل از وقت ہے قانونی اور آئینی طور پر دو سالوں تک ان کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے اور وہ خود اپنے مستقبل کا کیا فیصلا کرتے ہیں اس کا دارو مدار ان پر ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اور قوم کی خدمت آدمی کسی بھی حیثیت میں کرسکتا ہے سیاسیت میں آکر بھی اور اس سے باہر رہ کر بھی۔ | اسی بارے میں ’محفوظ راستہ، آئین شکنی کو دوام‘17 August, 2008 | پاکستان صدر مستعفی نہیں ہو رہے: اٹارنی 17 August, 2008 | پاکستان ’مشرف کوپناہ دینے کی تجویز نہیں‘17 August, 2008 | پاکستان سیاہی پر روشن خیالی کا پوڈر17 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||