BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 August, 2008, 04:50 GMT 09:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کا خطاب شروع، کارکردگی کا دفاع

صدر مشرف
صدر کی جانب سے مواخذے کا سامنا کرنے کا بیان بھی سامنے آیا ہے
پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف قوم سے خطاب کر رہے ہیں جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا۔ ملک کی بدلتی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اس خطاب کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔

خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس اچانک قوم سے خطاب کا محور ان کے اپنے مواخذے کی وہ تحریک ہوگی جس کے لیے حکمران اتحاد کی تیاریاں آخری مرحلے میں ہیں۔

حکمران اتحاد کی جانب سے پرویز مشرف کے مواخذے کے اعلان کے بعد صدر پرویز مشرف نے تیرہ اگست کی شب ایوان صدر میں جشنِ آزادی کی تقریب سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے مواخذے کی تحریک کا تذکرہ کیے بغیر مفاہمت کی سیاست پر زور دیا تھا۔

پیر کی صبح صدر پرویز مشرف کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ وہ استعفی دینے کی بجائے مواخذے کی تحریک کا سامنا کریں گے۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق صدر نے یہ بات متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کہی۔

یاد رہے کہ حکمران اتحاد کے رہنما صدر کو مسلسل یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مواخذے کی تحریک سے قبل خود ہی رخصت ہوجائیں تو بہتر ہے۔تاہم صدارتی ترجمان میجر جنرل راشد قریشی اور صدر کی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنما اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے تواتر سے یہ بیانات آئے ہیں کہ صدر کا استعفی دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔

امریکہ کی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے بھی اتوار کو کہا تھا کہ صدر پرویز مشرف کو امریکہ میں سیاسی پناہ دینے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف امریکہ کے اچھے اتحادی ہیں۔ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ صدر مشرف کی طرف سےملک میں ایمرجنسی نفاذ کرنے کے فیصلے کے خلاف تھا لیکن انہوں نے وردی اتارنے کا اپنا دعدہ پورا کیا اور اب پاکستان میں ایک جمہوری حکومت ہے۔

ادھر قومی اسمبلی کا ملتوی شدہ اجلاس بھی پیر سے دوبارہ شروع ہورہا ہے اور اس سے قبل حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس بھی متوقع ہے جس میں صدر کے مواخذے کی تحریک کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیاں پہلے ہی صدر مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی قراردادیں منظور کرکے ان سے مطالبہ کرچکی ہیں کہ وہ پارلیمینٹ سے اعتماد کا ووٹ لیں یا پھر استعفی دیدیں جبکہ قومی اسمبلی میں ہی جلد ہی ایسی قرارداد پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

اپنا اپنا پاکستان !
سب سے پہلے میں بعد میں پاکستان!
صدر مشرفمواخذہ اور افواہیں
صدر کا مواخذہ ہوگا یا وہ استعفی دیں گے
مفاہمت کی اپیل
سیاسی استحکام کے لیے صدر مفاہمت کے خواہاں
اسی بارے میں
مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز
16 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد