اپنا اپنا پاکستان ! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فاقہ مستوں کے لئے بھیک مانگنے والے عبدالستار ایدھی سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ اس وقت پرویز مشرف، آصف زرداری اور نواز شریف پاکستان کے مفادات کو آگے بڑھانے کے بجائے اپنی ذات کے گرد گھوم رہے ہیں۔ آپ چاہیں تو اس بیان کے بعد ایدھی کو یہ کہہ کر دھتکار سکتے ہیں کہ اے بڈھے تو کیا جانے سیاست کی الف ب۔تو صرف لنگر بانٹ، کھالیں جمع کر، ہیروئنچیوں کا علاج کر، زخمیوں کے لئے ایمبولینس بھگا، لاشیں اٹھا، لاوارث بچوں کی دیکھ ریکھ کر اور اللہ اللہ کر۔۔۔۔۔۔۔ یا آپ چاہیں تو ایدھی کے ان دوجملوں کے آئینے میں اپنے سیاسی چہرے کی جھریاں بھی گن سکتے ہیں۔ مثلاً اسوقت پرویز مشرف کا ’سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ عملاً ‘سب سے پہلے میں میں تبدیل ہوچکا ہے۔ وہ اپنی بقاء اور پاکستان کی سلامتی کو الگ الگ خانے میں دیکھنے سے بظاہر مجبور دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن اس میں ان کا بھی کیا قصور ؟ ایک ایسا شخص جسے نو برس تک اس کے حاشیہ برداروں نے دن رات بس یہ یقین دلایا ہو کہ حضورِ والا ہی دراصل وہ مافوق الفطرت گائے ہیں جس نے دنیا کا بوجھ اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے۔ اور یہ سینگ ذرا بھی ہلے تو سب تہہ و بالا ہوجائے گا۔ اب یہی حاشیہ بردار اس مقدس گائے سے توقع کر رہے ہیں کہ وہ اگلے چند گھنٹوں میں اپنا ذہن بدل لے۔ چابیاں نئے مینیجر کے حوالے کرے اور ٹیکسی منگوا کر پچھلے دروازے سے نکل لے۔۔۔۔۔ ایدھی کے بیان کے دوسرے کردار آصف زرداری کو لیجئے۔ جن کی زبان پر مواخذے کا لفظ اس دن کے بعد چڑھا جب این آر او کے تحت وہ آخری مقدمے سے بھی بری ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے این آر او کے ہی کاغذ کو پلٹ کر پرویز مشرف کے خلاف چارج شیٹ لکھنے کے لئے استعمال کر لیا۔ جہاں تک ایدھی کے بیان کے تیسرے کردار میاں نواز شریف کا سوال ہے تو انکا مسئلہ بظاہر مواخذے سے زیادہ ذاتی اس کو برابر کرنا لگ رہا ہے۔ اس کے لئے نواز شریف کوججوں کی بحالی کے مطالبے کو بھی مؤخر کرنے میں کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے حالیہ بیانات کے پیچھے کارفرما جذبے پر غور کیا جائے تو یہ بات چھلک چھلک کر ٹپک رہی کہ کلیجہ تب تک ٹھنڈا نہ ہوگا جب تک صدر کو فلم مولا جٹ کا نوری نتھ نہ بنا دیا جائے۔ صدر کو اسمبلی سے بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر اٹک کے قلعے میں لے جایا جائے اور ان پر ایسی فردِ جرم عائد ہو جس کی سزا موت ہو اور پھر اس سزا کو معافی میں بدل کر انہیں طیارے میں سوار کرایا جائے اور اس کے بعد ان کی جائداد ضبط کرلی جائے۔ چاہے اس کے نتیجے میں ایک اور بارہ اکتوبر ہی کیوں نہ ہوجائے۔ گویا تینوں حضرات نعرہ تو پاکستان اور جمہوریت بچاؤ کا لگا رہے ہیں لیکن ہر ایک اپنا اپنا پاکستان اپنی ذات کے آئینے سے باہر بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ ان حالات میں پاکستان کو ایک نہیں بلکہ دو مواخذوں کا سامنا ہے۔ ایک مواخذے کے لئے تو پارلیمنٹ میں کٹہرا تیار ہو رہا ہے۔ اورایک کٹہرا پارلیمنٹ سے باہر تیار ہے جس میں خود پاکستان کو کھڑا کرنے کی کوشش زوروں پر ہے۔ اور اس مواخذے کے نکات امریکہ، افغانستان، کشمیر کے حالات، معیشت، ریاستی رٹ کے درپے ادارے اور طالبان ایک ساتھ مرتب کر رہے ہیں۔ بچت کا ایک ہی راستہ ہے کہ ان دو میں سے ایک مواخذہ جلد از جلد کامیاب ہو اور ایک ناکام۔۔۔بصورتِ دیگر صرف یہی ہوگا نا کہ عبدالستار ایدھی کے رضاکاروں کا کام کچھ اور بڑھ جائے گا۔ |
اسی بارے میں زرداری کی چھ گیندیں27 April, 2008 | قلم اور کالم بلی خود گھنٹی باندھے!25 May, 2008 | قلم اور کالم یادِ مسلسل کیسے ہو !22 June, 2008 | قلم اور کالم بدنیتی کو تین طلاق !13 July, 2008 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||