 | | | ہم سب نے دیکھا کہ اس آرٹیکل کے ہوتے ہوئے جسٹس انوار الحق نے پھانسی جنرل ضیا الحق کے لیے نہیں بلکہ آئین کے خالق کے لیے تجویز کی |
جب چودہ اگست انیس سو تہتر کو آئین کا نفاذ ہوا تو اس کے تحت صدر پابند تھا کہ وہ اپنے اختیارات وزیرِ اعظم کے لازمی یا غیر لازمی مشورے کے ساتھ ہی استعمال کرسکتا ہے۔ چوبیس مئی کو پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے جس مجوزہ آئینی پیکیج کا خلاصہ بیان کیا ہے اس میں موجودہ صدر کو حاصل جو جو اختیارات وزیرِ اعظم کو منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ کم و بیش یہ سب اختیارات انیس سو تہتر کے آئین کے تحت بننے والے پہلے وزیرِ اعظم زوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں تھے۔ مجوزہ آئینی پیکیج میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ آئین کے آرٹیکل چھ کے دائرے میں ان ججوں کو بھی لایا جائے جو مستقبل میں کسی بھی فوجی آمر کے احکامات کو جائز قرار دیں یا عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اٹھائیں۔  | ارکان پارلیمنٹ کیوں نہیں  کیا یہ اچھا نہ ہو کہ زرداری نائک لیگل ایسوسی ایٹس آرٹیکل چھ کے دائرے میں جرنیلوں اور ججوں کے ساتھ ساتھ ان ارکانِ پارلیمان کو بھی شامل کرلیں جو مستقبل کے آمروں کو انڈیمنٹی یا استثنی فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ یوں جہاں جرنیل اور جج آئین کی پامالی میں حصہ دار بنتے ہوئے دس بار سوچیں گے وہیں ارکانِ پارلیمان بھی غیر آئینی اقدامات کو قانونی چوغہ پہنانے سے پہلے گلے میں پڑنے والے ممکنہ پھندے کو تصور میں لا سکیں گے  |
اگر آصف علی زرداری اور ان کے وزیرِ قانون فاروق نائیک آرٹیکل چھ کو بغور پڑھ لیں تو شاید انہیں اندازہ ہوجائے کہ پینتیس برس پہلے ہی اس آرٹیکل میں یہ وضاحت ہوچکی ہے کہ پارلیمنٹ ایک بالاتر قانون ساز ادارہ ہے۔ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے آئین کو جو شخص بھی جبراً یا کسی اور غیر آئینی طریقے سے تحلیل، تبدیل یا پامال کرنے کی کوشش یا سازش کا حصہ یا مددگار بنے گا وہ شخص انتہائی غداری کا مرتکب ہوگا اور ایسے شخص کو پارلیمنٹ سزا دینے کی مجاز ہوگی۔ گویا آرٹیکل چھ کے دائرہ کار میں جرنیل اور ججوں سمیت وہ تمام عناصر خود بخود آجاتے ہیں جو اسے توڑنے یا اس کی پامالی یا سازش یا کوشش میں شامل ہوں۔ لیکن ہم سب نے دیکھا کہ اس آرٹیکل کے ہوتے ہوئے جسٹس انوار الحق نے پھانسی جنرل ضیا الحق کے لیے نہیں بلکہ آئین کے خالق کے لیے تجویز کی۔ اور اسی سے حوصلہ پا کر بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو یہ آئین دوسری دفعہ پامال ہوا۔ ایسا کیوں ہوا؟ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ جب جب بھی آئین کے تحفظ کے لیے کھڑے ہونے کا موقع آیا مملکت کے بالا ترین قانون ساز ادارے کے ارکان کی ریڑھ کی ھڈی کا گودا خشک ہوگیا اور اس ایوان نےآرٹیکل چھ کے تحت سزا تجویز کرنے کے اپنے ہی اختیار کو آئین اور اس کی روح سمیت آمروں کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ انیس سو پچاسی کی غیر جماعتی پارلیمان نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے اور سن دوہزار دو کی جماعتی پارلیمان نے سترہویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل چھ کے پتھر کو پھول میں بدل دیا۔ کیا یہ اچھا نہ ہو کہ زرداری نائیک لیگل ایسوسی ایٹس آرٹیکل چھ کے دائرے میں جرنیلوں اور ججوں کے ساتھ ساتھ ان ارکانِ پارلیمان کو بھی شامل کرلیں جو مستقبل کے آمروں کو انڈیمنٹی یا استثنیٰ فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ یوں جہاں جرنیل اور جج آئین کی پامالی میں حصہ دار بنتے ہوئے دس بار سوچیں گے وہیں ارکانِ پارلیمان بھی غیر آئینی اقدامات کو قانونی چوغہ پہنانے سے پہلے گلے میں پڑنے والے ممکنہ پھندے کو تصور میں لا سکیں گے۔ اگر پیپلز پارٹی واقعی یہ سمجھتی ہے کہ مستقبل کے آمروں کو کہیں پناہ نہ ملے تو آغاز اس سے کیوں نہیں ہوسکتا کہ موجودہ پارلیمان ایسے تمام ججوں اور سابقہ پارلیمانوں کے خلاف قرارِ دادِ مذمت منظور کرے جنہوں نے پچھلے ساٹھ برس میں بلواسطہ یا بلاواسطہ آمرانہ اقدامات کو آئینی طور پر حلال قرار دیا۔ جب تک بلی اپنے گلے میں خود گھنٹی نہ باندھے وہ ملک کترنے والے چوہوں کو کیسے دور رکھ سکتی ہے۔ |