 | | | قومی مفاہمت کو قومی منافقت میں بدلتے آخر کتنی دیر لگے گی؟ |
سارس اور لومڑی میں عموماً دوستی ہوتی نہیں ہے پھر بھی دونوں نے جنگل میں مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے دوستی کر ہی لی۔ جب اس دوستی کو کئی دن ہوگئے تو لومڑی نے سارس سے کہا کہ آج دوپہر آپ میرے مہمان ہیں کھانا میری ساتھ ہی کھائیےگا۔ سارس ٹھمکتا ٹھمکتا لومڑی کی کچھار تک پہنچا لیکن لمبے قد کے سبب اندر نہ جا سکا۔لومڑی نے جگہ کی تنگی پر بہت معذرت کی اور ایک پلیٹ میں شوربہ سارس کے سامنے رکھ دیا۔سارس نے اپنی لمبی چونچ سے شوربہ پینے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس دوران میزبان لومڑی اپنی زبان سے لپ لپ کر کے شوربہ پی گئی۔ بھوکے سارس نے جنگل کی اخلاقیات برتتے ہوئے اس دعوت کا شکریہ ادا کیا اور لومڑی سے کہا کہ اتنے لذیذ شوربے کے بعد تو اب میرا بھی حق بنتا ہے کہ آپ کو دعوت دوں۔کل شام کو ڈنر میرے ساتھ کیجیےگا۔ لومڑی وقتِ مقررہ پر بن ٹھن کے سارس کے ھاں پہنچی تو سارس نے نہایت خوش اخلاقی کے ساتھ ایک صراحی لومڑی کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ معاف کیجیے گا میرے پاس کوئی اور برتن نہیں تھا لہذا صراحی میں بوٹیاں ڈالنی پڑگئیں، لیجیے تناول کیجئے۔ لومڑی نے اپنی تھوتھنی دو تین مرتبہ صراحی کے تنگ منہ میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ پھر بھی جنگل کی اخلاقیات کے تحت لومڑی نے کھانے کی تعریف کرتے ہوئے ڈکار لی اور اپنی کچھار کی طرف روانہ ہوگئی۔اس کے جاتے ہی سارس نے صراحی میں چونچ ڈال کر بوٹیاں کھا لیں اور مالک تیرا شکر ہے کہہ کر ایک ٹانگ پر سوگیا۔  |  ایوب خان نے جو حشر صنعتی انقلاب کی اصطلاح کا کیا، یحیٰی خان نے جو سلوک نظریۂ پاکستان کے ساتھ کیا، ضیاء الحق نے جو ہاتھ اسلامی نظام کے نام پر کیا، پرویز مشرف نے جو کچھ اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے ساتھ کیا کم و بیش ویسا ہی کچھ آج کل قومی مفاہمت کی اصطلاح کے ساتھ ہو رہا ہے۔  |
کہانی تو خیر یہ بہت گھسی پٹی ہے لیکن ان دنوں پاکستان میں قومی مفاہمت کے نام پر جو محبتیں دکھائی جا رہی ہیں مجھے سارس اور لومڑی کی یہ کہانی بہت یاد آ رہی ہے۔ اس ملک میں اچھی بھلی مثبت اصطلاحات کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ سکندر نے پورس کے ساتھ بھی نہیں کیا ہوگا۔مثلاً ایوب خان نے جو حشر صنعتی انقلاب کی اصطلاح کا کیا، یحیٰی خان نے جو سلوک نظریۂ پاکستان کے ساتھ کیا، ضیاء الحق نے جو ہاتھ اسلامی نظام کے نام پر کیا، پرویز مشرف نے جو کچھ اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے ساتھ کیا کم و بیش ویسا ہی کچھ آج کل قومی مفاہمت کی اصطلاح کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس حشر پر جنوبی افریقہ کی حکومت احتجاج کرے تو تعجب نہ ہوگا کیونکہ یہ اصطلاح وہیں سے مستعار لی گئی ہے۔ جب نیلسن منڈیلا نے سفید فاموں اور سیاہ فاموں کے مابین گروہی نفرتیں ختم کرنے اور تاریخی و سیاسی زخم مندمل کرنے کے لیے ایک سچائی کمیشن تشکیل دیا۔ جس کے روبرو ہر شخص نے رضاکارانہ طور پر یا تو اپنی زیادتیوں اور گناہوں کا رو رو کر اعتراف کیا یا پھر خود پر ہونے والے مظالم کی داستان سنا کر دل کا بوجھ ہلکا کیا۔یوں قومی مصالحت کی بنیاد پر معاشرے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں قومی مصالحت کی اصطلاح تو درآمد کر لی گئی لیکن اس کی روح جنوبی افریقہ میں ہی چھوڑ دی گئی۔ چنانچہ قومی مصالحت کے نام پر ایک ایسی پبلک لمیٹڈ کمپنی بنانے کی کوشش ہو رہی ہے جس میں سانپ اور نیولا، ہاتھی اور چیونٹی، شیر اور بکری، چیتا اور ہرن ، بلی اور کبوتر ، بچھو اور خرگوش غرض ہر طرح کا جانور شیئر ہولڈر کی حیثیت سے شامل ہے۔ اس طرح کی قومی مفاہمت کو قومی منافقت میں بدلتے آخر کتنی دیر لگے گی۔یہ جاننے کے لیے پی ایچ ڈی ہونا ضروری نہیں۔ |