 | | | نئی وفاقی حکومت کے ریڈار پربلوچستان کہاں ہے؟ |
بظاہر پاکستان میں اس وقت سب سے مقبول اور مستحکم صوبائی حکومت بلوچستان کی ہے جسے ایک رکن کے سوا پوری صوبائی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے لیکن عملی صورتحال یہ ہے کہ نئی حکومت اور اسمبلی کو بھی پچھلے ادوار کی طرح محض شور مچانے، قراردادیں منظور کرنے اور وعدے کرنے کی آزادی ہے۔وفاقی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر وہ ایک اینٹ بھی ادھر سے ادھر نہیں کر سکتے۔ سویلین اور فوجی سیٹ اپ پر مشتمل وفاقی اسٹیبلشمنٹ کے خیال میں بلوچستان کے حالات مٹھی بھر سرداروں نے خراب کر رکھے ہیں۔جب تک ان سرداروں کے حامی دہشت گردی سے باز نہیں آتے اور بندوق نہیں رکھتے کسی مسئلے پر بات نہیں ہوسکتی۔ بلوچستان کے سب سے معروف سیاسی قیدی سابق وزیرِاعلی اختر مینگل کو کراچی میں خفیہ اہلکاروں کو اغوا کرنے کی پاداش میں بغاوت کے مقدمہ کا سامنا ہے۔ ان کا یہ جرم اتنا سنگین ہے کہ انہیں جیل کے اندر لگی عدالت میں پنجرے میں بند قیدی کے طور پر پیش کیا گیا اور میڈیا کو مقدمے کی کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لیکن اسی پاکستان کے بعض علاقوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو نہ آئین کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ حکومت کو مانتے ہیں۔انہوں نے اپنا متوازی نظامِ قانون و انصاف قائم کیا ہوا ہے۔ان کی عدالتیں سزائے موت تک دیتی ہیں۔وہ جب چاہتے ہیں شاہراہیں بند کردیتے ہیں،ناپسندیدہ کاروبار اور سکولوں کو بم سے اڑا دیتے ہیں، عسکری اہلکاروں کا اسلحہ لوٹتے ہیں،اغوا کرتے ہیں اور انہیں قتل کرکے لاشیں پھینک دیتے ہیں۔  | | | بلوچ انتہا پسند نہ تو نیٹو افواج کو مطلوب ہیں نہ ہی انکے علاقوں پر ڈرونز پرواز کرتے ہیں، |
وہ سفیر کو یرغمال بنالیتے ہیں، خودکش حملے منظم کرتے ہیں، میڈیا کو مصالحتی پیغامات اور دھمکیوں کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں،ملک کے اندر بھی حملہ آور ہوتے ہیں اور سرحد پار بھی۔ اس سب کے باوجود حکومت نہ صرف ان سے بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرتی بلکہ جنگ بندی اور صلح کے معاہدے کرتی ہے، تاوان بھرتی ہے، ضبط شدہ اسلحہ اور قیدی واپس کرتی ہے اور ایجنسیاں انکے حامیوں کو غائب کرنے سے بھی احتیاط برتتی ہیں۔ دوسری جانب بلوچ انتہا پسند نہ تو افغانستان میں برسرِ پیکار نیٹو افواج کو مطلوب ہیں نہ ہی ان کے علاقوں پر ڈرونز پرواز کرتے ہیں، نہ ہی یہ بلوچ دہشت گرد عسکری اہلکاروں اور این جی اوز کے ملازموں کو پکڑ کر نامعلوم مقامات پر رکھتے ہیں اورنہ ہی ملک کے مختلف حصوں میں خودکش کاروائیاں کرتے ہیں اور نہ پورے پاکستان کا نظامِ حیات بدلنا چاہتے ہیں۔ وہ محض توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے علاقوں میں بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور گیس پائپ لائن کے دشمن ہیں یا پھر فوجی گاڑیوں کو بارودی سرنگوں سے نشانہ بناتے ہیں۔ان کی سیاسی قیادت مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔لیکن حکومت انہیں فاٹا کے شدت پسندوں کی طرح وی آئی پی درجہ دینے پر آمادہ نہیں۔ پوری بلوچستان اسمبلی کے اعتماد یافتہ وزیرِاعلی نواب اسلم رئیسانی ایک ٹی وی چینل پر اعتراف کرچکے ہیں کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی، لاپتہ افراد کی بازیابی، بندوق اٹھانے والوں سے بات چیت اور قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے لیکن یہ کام فی الحال ان کے بس سے باہر ہیں اور وہ خود کو ایسی رضیہ محسوس کرتے ہیں جو غنڈوں میں گھری ہوئی ہے۔ نئی وفاقی حکومت کے ریڈار پر عدلیہ کی بحالی، صدر اور وزیرِ اعظم کے اختیارات میں توازن اور مقامی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے جیسے موضوعات تو چمک رہے ہیں۔لیکن سینتالیس فیصد پاکستان پر مشتمل بلوچستان اس ریڈار پر کہاں ہے؟ حضرت علی علیہ سلام کے بقول غریب وہ ہوتا ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو۔ |